ٹائپنگ ٹیسٹ میں جعلسازی کا الزام، سپریم کورٹ نے عدالتی ملازمین کی اپیلوں پر سماعت ملتوی کر دی

سپریم کورٹ نے ضلع عدلیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دو ملازمین کی تنزلی اور محکمانہ سزائوں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو وکیل مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ضلع عدلیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دو ملازمین کی تنزلی اور محکمانہ سزائوں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو وکیل مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزاروں سے استفسار کیا کہ وہ کس گریڈ پر تعینات تھے اور ان کی تنزلی کی بنیاد کیا بنی۔ ایک درخواست گزار نے بتایا کہ وہ اسسٹنٹ کے عہدے پر فائز تھا لیکن اسے تنزلی دے کر سینئر کلرک بنا دیا گیا جبکہ دوسرے درخواست گزار حسان چغتائی نے موقف اختیار کیا کہ وہ جونیئر کلرک تھا، اس کی سروس ضبط کی گئی اور ترقی بھی روک دی گئی۔ضلعی عدلیہ کے سٹاف افسر نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بھائی کو بھرتی کرانے کے لیے بے ضابطگی کی۔ ان کے مطابق حسان چغتائی نے اسسٹنٹ کے بھائی کی جگہ ٹائپنگ ٹیسٹ دیا تھا۔سٹاف افسر نے مزید بتایا کہ انکوائری رپورٹ میں حسان چغتائی نے اس عمل کا اعتراف کیا اور معافی بھی مانگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹائپنگ ٹیسٹ کے دوران ایک ایڈیشنل سیشن جج نے ایک امیدوار کی غیر معمولی ٹائپنگ رفتار نوٹ کی جس پر دوبارہ اپنی نگرانی میں ٹیسٹ لیا گیا تو امیدوار کی رفتار نمایاں طور پر کم نکلی۔عدالت نے انکوائری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار سے کہا کہ تم نے انکوائری کے دوران مانا کہ تم نے یہ کام کیا ہے۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار شکر کریں کہ وہ اب بھی ملازمت میں ہیں، ہم ہوتے تو آپ گھر جاتے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو آئندہ سماعت پر وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔