اسلام آباد ۔ 12 نومبر (اے پی پی) کابینہ نے ”احساس گورننس اور دیانت داری مشاہداتی“ اور ”احساس گورننس اور دیانت داری پالیسی“ کی تجویز کی منگل کو منظوری دےدی۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن اور اس کے ماتحت ادارے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال، …
کابینہ نے ”احساس گورننس اور دیانت داری مشاہداتی“ اور ”احساس گورننس اور دیانت داری پالیسی“ کی تجویز کی منظوری دےدی
اسلام آباد ۔ 12 نومبر (اے پی پی) کابینہ نے ”احساس گورننس اور دیانت داری مشاہداتی“ اور ”احساس گورننس اور دیانت داری پالیسی“ کی تجویز کی منگل کو منظوری دےدی۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن اور اس کے ماتحت ادارے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ اور ٹرسٹ فار والنٹری آرگنائزیشنز پر لاگو ہوتی ہے اور مشاہداتی پالیسی کا مقصد تعمیل سے باخبر رہنے کو یقینی بنانا ہے اور جیسا کہ پالیسیوں کے ساتھ اہم مسئلہ ان کا نفاذ ہے، اسی وجہ سے ان دونوں پالیسیوں کو ایک ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ایسے نظام کی تشکیل دینا ہے جو بد عنوانی کی سختی سے حوصلہ شکنی کرے اور نتائج اور قواعد کی تعمیل کیلئے کارکردگی، شفافیت اور احتساب کو فروغ دے۔ ان اقداما ت کا مقصد ایسے اداروں کو فلاح و بہبود کی فراہمی میں شامل کرنا ہے جو ان کی ضروریات کیلئے مو¿ثر اور ذمہ دار ہیں اور عوامی وسائل کے استعمال پر سرکاری کنٹرول کو یقینی بناتے ہے۔ اس پالیسی کا مقصد معاشرتی بہبود کے اداروں میں ہونے والی بد عنوانی اور ملی بھگت سے نمٹنا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بورڈ کو کس طرح سے کام کرنا چاہئے، کونسی پالیسیاں اہم ہیں، اور وسل بلوئنگ اور مفادات کے تصادم کی کیا اہمیت ہے۔ یہ رسک مینجمنٹ، اشورنس، رسک رجسٹروں کی بحالی، احتساب کے افسران کی تقرری، غلطی، دھوکہ دہی اور بدعنوانی، آئی ٹی سکیورٹی، مالیاتی نظام کی مضبوطی، حصولی کے نظام، معلومات تک رسائی، ای فائلنگ، ورک پلان اور قابل اعتماد ڈیٹا سیٹ کی تشکیل کے ذریعے دیانت داری کو فروغ دینے کیلئے اداراتی فریم ورک کا بھی تعین کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس پالیسی کا مقصد صوابدیدی اختیارات کو بھی ختم کرنا ہے۔ اس پالیسی میں خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ چار سال کے اختتام تک، پی اے ایس اسی ڈی اعدادوشمار کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے بلاک چین ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ پی اے ایس ایس ڈی تجربات کی روشنی میں اس پالیسی کو بہتر بناتی رہے گی۔ اس پالیسی کے نفاذ کیلئے ، پی اے ایس ایس ڈی نے ایک گورننس فوکل پرسن مقرر کیا ہے اور اس پالیسی پرعملدرآمد میں آسانی کیلئے گورننس اور دیانت داری مشاہداتی قائم کی جائےگی۔ جلد ہی یہ پالیسی تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن کی ویب سائٹ پر شائع کی جائے گی۔









