اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان کی کاروباری برادری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کے دو روزہ (8 تا 9 دسمبر )دورہ پاکستان کو تاریخی اور معاشی اعتبار سے اہم قرار دیتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا ہے۔اتوار کواے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف …
کاروباری برادری، ایف پی سی سی آئی کی جانب سے انڈونیشین صدر پرابووو سبیانتو کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان کی کاروباری برادری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کے دو روزہ (8 تا 9 دسمبر )دورہ پاکستان کو تاریخی اور معاشی اعتبار سے اہم قرار دیتے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا ہے۔اتوار کواے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو کا دو روزہ دورہ جو پیر سے شروع ہو رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہےجس کے ساتھ گزشتہ مالی سال 2024-25 میں دو طرفہ تجارت 4.7 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دو طرفہ تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے کم ہے اور دونوں ممالک کو اس میں اضافے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر مذاکرات کرنے ہوں گے۔
عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کو ایک دوسرے کی مارکیٹس سے متعلق آگاہ رہنے کی ضرورت ہےجس کے لیے سال بھر دونوں ممالک کے تجارتی وفود کے تبادلے ضروری ہیں اور اس حوالے سے انڈونیشین صدر کے موجودہ دورہ پاکستان میں تفصیلی بات چیت ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے لیے آسیان ممالک تک رسائی کا پل ثابت ہوسکتا ہےجبکہ پاکستان وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ انڈونیشیا کے تعلقات مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ صدر پرابووو کا دورہ اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ادھر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر خان نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ اس وقت انڈونیشین صدر کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو نئی سمت دے گا اور دنیا کی دو بڑی آبادی والے ممالک میں باہمی اقتصادی انضمام کی ضرورت ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سیگول نے بھی انڈونیشین صدر کے دورہ پاکستان کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر مشتمل تجارتی و معاشی تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں دو طرفہ تجارت تقریباً 4.7 بلین ڈالر تک پہنچی اور 2025 میں مزید بڑھ رہی ہے۔ جنوری تا ستمبر 2025 میں تجارت 2.92 بلین ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے 2.69 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ریحان حنیف نے بھی انڈونیشین صدر کے دورے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلیٰ سطح کا دورہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار دے گا۔انہوں نے بتایا کہ تجارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جو 2023 کے 3.36 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 4.7 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔2025 میں صرف جنوری تا جولائی کے دوران انڈونیشیا کی پاکستان کو برآمدات 2.16 بلین ڈالر رہیں جس سے مجموعی تجارت کو مزید تقویت ملی۔ توقع ہے کہ تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔پاکستان انڈونیشیا بزنس کونسل (پی آئی بی سی) کے چیئرمین حسیب خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکسٹائل، حلال مصنوعات، زرعی شعبے، دواسازی، آئی ٹی، ڈیجیٹل انوویشن، قابل تجدید توانائی اور انڈونیشیا کے نکل ریزرو کی بنیاد پر ای وی بیٹریوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک آسیان مارکیٹس تک رسائی اور خدمات، تعمیرات اور سی پیک زونز میں سرمایہ کاری بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انڈونیشین صدر کا یہ دورہ تجارت، دفاع، انفراسٹرکچر، توانائی میں سرمایہ کاری اور عوامی سطح پر روابط سمیت اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک وسیع ایجنڈے پر بات چیت کریں گے جس میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور ثقافت سمیت علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون بڑھانے کے امکانات شامل ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو نے 2024 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اقتصادی ترقی، خوراک و توانائی میں خود کفالت، تعلیم اور صنعتی ترقی پر مبنی اصلاحات نافذ کی ہیں۔
انہوں نے 2025 کے اوائل میں جی ڈی پی میں اضافے کے لیے 8 پالیسیوں کا اعلان کیا جن میں مفت غذائیت بخش کھانے، سماجی امداد ، قدرتی وسائل کی برآمدی آمدنی کا اندرون ملک استعمال اور دانانتارا نیشنل انویسٹمنٹ فنڈ کا قیام شامل ہیں۔مزید اقدامات میں ہاؤسنگ سبسڈی (FLPP پروگرام)، ایم ایس ایم ایز کے قرضوں کی معافی اور بین الاقوامی تجارت میں اضافہ جیسے بی آر آئی سی ایس رکنیت، او ای سی ڈی تک رسائی اور کینیڈا و یورپی یونین کے ساتھ سی ای پی اے معاہدے شامل ہیں۔جنوری 2025 میں بجٹ میں 306.6 کھرب روپے کی کفایت شعاری بھی کی گئی تاکہ سماجی پروگرامز کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔اپنے دورہ پاکستان کے دوران صدر پرابووو وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے اور صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔








