کاشتکار سموگ کے خطرات کے پیش نظر دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں، محمد یوسف

اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت ڈسکہ محمد یوسف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق کاشتکار سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں اور مڈھوں کی تلفی کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

سیالکوٹ ۔ 17 ستمبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت ڈسکہ محمد یوسف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق کاشتکار سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں اور مڈھوں کی تلفی کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو دھان کے کاشتکاروں کے نام اپنے ایک پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے سنگین اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں، سموگ نہ صرف انسانی صحت بلکہ جانوروں، پودوں، فصلوں اور مجموعی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ سموگ کی بڑی وجوہات میں ٹریفک اور صنعتی اداروں سے خارج ہونے والا دھواں شامل ہے، تاہم فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا اہم سبب ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں دھان کی فصل برداشت اور کٹائی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، کاشتکار دھان کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ دھان کے مڈھوں کو جلانے سے نہ صرف فضائی آلودگی اور سموگ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ اور مفید اجزا بھی متاثر ہوتے ہیں، جس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کے بجائے انہیں زمین میں شامل کیا جائے تاکہ نامیاتی مادے میں اضافہ اور زمین کی زرخیزی بحال رکھنے میں مدد مل سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر جبکہ مشینی کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کے ذریعے فصل کی باقیات کو زمین میں ملایا جا سکتا ہے، اسی طرح گہرا ہل چلا کر فی ایکڑ آدھی بوری یوریا چھٹہ کرنے کے بعد پانی لگانے سے بھی فصل کی باقیات کو زمین میں تحلیل کرنے اور زمین کی زرخیزی و پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب نے فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں قانون کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ،اور 2 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں بھی ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کاشتکار فصلات کو مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فصلوں کی باقیات جلانے سے مکمل اجتناب کریں اور محکمہ زراعت پنجاب کی ہدایات کے مطابق مڈھوں کو تلف کریں۔