بنیادی مسائل کے حل ، بہتر سروس ڈلیوری کے لیے وفاق اور صوبوں کی ترجیحات کویکجا ، وسائل و اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے،وزیرمملکت خزانہ کا لیڈرز ان اسلام آبادبزنس سمٹ خطاب

وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ ملک کو درپیش بنیادی مسائل کے حل اور بہتر سروس ڈلیوری کے لیے وفاق اور صوبوں کے ترجیحات کویکجا کرنا اور وسائل و اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے، حکومت نے مشکل عالمی حالات اور بڑے معاشی جھٹکوں کے باوجود معاشی استحکام حاصل کیا ہے،معیشت کے آگے بڑھانے میں نجی شعبہ کاکردارکلیدی اہمیت کاحامل ہے۔

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ ملک کو درپیش بنیادی مسائل کے حل اور بہتر سروس ڈلیوری کے لیے وفاق اور صوبوں کے ترجیحات کویکجا کرنا اور وسائل و اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ناگزیر ہے، حکومت نے مشکل عالمی حالات اور بڑے معاشی جھٹکوں کے باوجود معاشی استحکام حاصل کیا ہے،معیشت کے آگے بڑھانے میں نجی شعبہ کاکردارکلیدی اہمیت کاحامل ہے۔

جمعرات کویہاں لیڈرز ان اسلام آبادبزنس سمٹ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل صرف معیشت یا وزارت خزانہ تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، صحت، سکول سے باہر بچوں اور مجموعی طرز حکمرانی سمیت متعدد شعبوں سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ تمام معاملات ایک دوسرے سے باہم منسلک ہیں۔ وزیرمملکت نے کہاکہ نظام کو عوام کو بہتر معیار کی خدمات فراہم کرنی چاہئیں۔ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل کیلئے ملک کے مجموعی طرز حکمرانی کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا اور اسے موثر بنانا ضروری ہے، حکومت کے اصلاحات کے پروگرام کامقصد گورننس اورخدمات کی فراہمی میں بہتری لاناہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بعض شعبوں میں نمایاں کام کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات کے حوالے سے اب بھی متعدد مسائل موجود ہیں اور ایسے مسائل کو مقامی سطح پر موثر انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرمملکت نے کہا کہ ملک کے مسائل سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے دو امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جن میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ترجیحات میں ہم آہنگی اور وسائل و اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی شامل ہے، اگر وفاق اور صوبے اپنی ترجیحات کو یکجا نہیں کریں گے تو محدود وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانا مشکل ہوگا،گزشتہ سال وفاق کا ترقیاتی بجٹ تقریبا ایک ہزار ارب روپے جبکہ صوبوں کے ترقیاتی وسائل تقریبا 3.2 کھرب روپے تھے، یوں مجموعی طور پر تقریبا چار کھرب روپے ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے دستیاب تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان وسائل کو باہمی طور پر ہم آہنگ ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جائے تو ان سے کہیں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

وزیرمملکت نے کہاکہ وسائل کی تقسیم کے حوالے سے قومی مالیاتی کمیشن اور صوبوں سے نچلی سطح تک وسائل کی منتقلی بھی اہم معاملات ہیں۔ صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈز کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث مقامی حکومتوں تک وسائل کی منتقلی کا مسئلہ موجود ہے۔ وسائل اور اختیارات کو مقامی سطح پر منتقل کرنے سے اس مسئلے کے حل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران حکومت نے مشکل عالمی حالات اور بڑے معاشی جھٹکوں کے باوجود معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔ پاکستان نے مشکل عالمی ماحول میں اپنی معیشت کو ان جھٹکوں سے بڑی حد تک محفوظ رکھا اور تاریخ کی بلند ترین سطح کے زرمبادلہ ذخائر حاصل کیے، عالمی بانڈ مارکیٹ میں کامیاب واپسی ہوئی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری بھی آئی،ماضی کے معاشی عروج و زوال کے چکر سے نکلنا ہوگا اور ایسی پائیدار معاشی نمو کی بنیاد رکھنا ہوگی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں بھی مستقل اضافہ ہو۔

وزیرمملکت نے کہاکہ پائیدارمعاشی نموکیلئے برآمدات میں اضافہ ناگزیرہے، حکومت نجی شعبے کی مشاورت سے معیشت کے مختلف شعبوں میں عملی اصلاحات اور کاروباری لاگت کم کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم کا پختہ یقین ہے کہ اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، برآمدات اور ٹیکس محصولات کا بنیادی ذریعہ نجی شعبہ ہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری نجی شعبے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت وزیراعظم سمیت حکومتی سطح پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد سے مسلسل ملاقاتیں کی جا رہی ہیں تاکہ ان کے مسائل اور ضروریات کو سمجھ کر قابل عمل پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔ وزیرمملکت نے کہاکہ تاجراورکاروباری برادری کی مشاورت سے اقدامات کئے جارہے ہیں، 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سب سے بڑے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

برآمد کنندگان کی برآمدی آمدن پرٹیکس کی شرح کو کم کرکے 1.5 فیصد کر دیا گیا، آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے 0.25 فیصد فائنل ٹیکس کی شرح بھی برقرار رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ درآمدات کے حوالہ سے جامع اور بڑے پیمانے پر ٹیرف میں کمی کا پروگرام شروع کیا گیاہے اس اقدام سے مقامی صنعت اور برآمد کنندگان کے لیے خام مال اور دیگر پیداواری مداخل کی لاگت کم ہونے کے ساتھ معیشت میں مسابقت بڑھے گی، جس سے جدت، ٹیکنالوجی کے فروغ اور پیداواری صلاحیت میں بہتری کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری شعبے اور عوام دونوں کے لیے قابل اعتماد اور سستی توانائی بنیادی ضرورت ہے۔ حکومت نے برآمدات کے فروغ کے لیے صنعتی شعبے پر عائد بعض کراس سبسڈی میں بھی کمی کی ہے تاکہ توانائی کی لاگت کم ہو سکے۔ اسی طرح شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے اور کاروباری اداروں کو سولر نظام اپنانے میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گرڈ سے متعلق مسائل کے حل پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

بلال اظہرکیانی نے کہاکہ حکومت زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی وسائل تک رسائی فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ ان شعبوں میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں وزیراعظم خود باقاعدگی سے ایس ایم ایز کو مالی وسائل تک رسائی کے معاملے پر اجلاس کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے کام کرنے والے ادارے سمیڈا میں اصلاحات پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکومت نے تاجروں کی نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لے کر نئی ٹیکس سکیم تیار کی ہے وزیراعظم کی ہدایت پر تاجروں کی دو بڑی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس اور مشاورتی نشستیں منعقد کی گئیں اور سکیم کے ہر پہلو، حتی کہ سادہ اردو میں تیار کیے گئے فارم کے ایک ایک خانے کو بھی تاجروں کے ساتھ بیٹھ کر حتمی شکل دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تاجروں کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی یہ سکیم متعارف کرائی ہے کیونکہ ماضی کے تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ کسی بھی پالیسی یا سکیم کی کامیابی کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور اس کی ملکیت کا احساس ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی سکیم کے تحت دکاندار سادہ اردو فارم کے ذریعے اپنی بنیادی معلومات، آمدن کا گوشوارہ اور بیلنس سٹیٹمنٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ یہ فارم ویب پورٹل کے علاوہ آسان ٹیکس ایپ کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیم کے تحت ایسے دکاندار جن کا سالانہ کاروباری حجم 30 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے، اپنی ظاہر کردہ سالانہ ٹرن اوور پر ایک فیصد فائنل ٹیکس ادا کریں گے جبکہ پہلے سے ادا کردہ ودہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے کے بعد دکاندار کو ایک مخصوص پلیٹ فراہم کی جائے گی جسے وہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کر سکے گا۔ یہ محض شناختی علامت نہیں بلکہ قانونی حیثیت رکھنے والی پلیٹ ہوگی اور پلیٹ آویزاں ہونے کے بعد ایف بی آر کا کوئی افسر معمول کی ٹیکس پوچھ گچھ کے لیے دکان میں داخل نہیں ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ سکیم کے تحت ہر دکاندار کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہوگی، سکیم میں شامل ہونے والے دکانداروں کو عام طور پر آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، ایف بی آر کے اہلکار کو دکان میں داخل ہونے کا اختیار نہیں ہوگا، ودہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داری بھی عائد نہیں ہوگی جبکہ پوائنٹ آف سیل مشین نصب کرنے کی تعمیلی شرط سے بھی انہیں استثنا حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد محض انتظامی دبا ئوکے ذریعے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا نہیں بلکہ انہیں ایسی سہولیات اور مراعات فراہم کرنا ہے جن کے نتیجے میں وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نظام کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے میٹروں کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں تقریبا 45 لاکھ ریٹیلرز موجود ہیں جو اس وقت ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو صرف طاقت یا انتظامی اقدامات کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ممکن نہیں، اس لیے حکومت نے سہولت، سادہ طریقہ کار اور مراعات پر مبنی نظام متعارف کرایا ہے۔