پاکستان کو ترقی کی صحیح سمت پر گامزن کرنے کیلئے آئندہ دس برس تک درست سمت میں مسلسل کام کرنا ہوگا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن اب کوئی آپشن نہیں بلکہ واحد راستہ رہ گیا ہے، اگر آج ہم پیپر لیس نہ ہوئے تو کل بے مقصد ہو جائیں گے، پاکستان کو ترقی کی صحیح سمت پر گامزن کرنے کے لئے آئندہ دس برس تک درست سمت میں مسلسل کام کرنا ہوگا۔وہ جمعرات کو وفاقی دارالحکومت میں پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی …

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن اب کوئی آپشن نہیں بلکہ واحد راستہ رہ گیا ہے، اگر آج ہم پیپر لیس نہ ہوئے تو کل بے مقصد ہو جائیں گے، پاکستان کو ترقی کی صحیح سمت پر گامزن کرنے کے لئے آئندہ دس برس تک درست سمت میں مسلسل کام کرنا ہوگا۔وہ جمعرات کو وفاقی دارالحکومت میں پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی ڈیجیٹل سروسز کی لانچنگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

تقریب وفاقی بورڈ برائے ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیم (ایف بی آئی ایس ای) کے آڈیٹوریم، سیکٹر ایچ-8/4 میں منعقد ہوئی۔ وفاقی وزیر نے پیرا کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کے لئے ڈیجیٹل سروسز کے اجرا ء کو اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں سرکاری و نجی اداروں کی خدمات کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان محض ایک ملک نہیں بلکہ اس کے قیام کے پیچھے ایک مقصد بھی ہے اور اسے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی کی جانب آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ان برسوں میں اس مقام پر ہونا چاہئے تھا جہاں وہ ملت اسلامیہ کے لئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا تاہم اب بھی درست سمت میں سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کے ذریعے ترقی کا سفر تیز کیا جا سکتا ہے، اگر اگلے دس برس صحیح سمت میں کام کیا جائے تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔

اس موقع پر چیئرمین پیرا غلام علی ملاح نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے بچوں اور سکول مالکان کو مختلف خدمات کے حصول کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اس لئے کوشش کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خدمات کو پیپر لیس اور آن لائن بنایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ اب پیرا کے معاملات کے لئے نہ طلبہ کو دفتر آنے کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی سکول مالکان کو بار بار پیرا کے دفاتر کے چکر لگانا پڑیں گے، نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور تجدید کا نظام آن لائن کر دیا گیا ہے جبکہ تین سالہ رجسٹریشن کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

چیئرمین پیرا نے کہا کہ اسلام آباد میں اب تک تقریباً 1700 تعلیمی ادارے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور نجی تعلیمی اداروں کو ای لائسنس جاری کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو سکول منتقلی اور مائیگریشن کے معاملات میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا تاہم اب سکول آن لائن درخواست دے سکے گا جبکہ متعلقہ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کا عمل بھی آن لائن کر دیا گیا ہے۔غلام علی ملاح نے بتایا کہ پیرا سے متعلق شکایات کے اندراج کی سہولت بھی آن لائن فراہم کر دی گئی ہے اور درخواست گزار اپنی شکایت کی صورتحال بھی آن لائن چیک کر سکیں گے۔

نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کا مکمل ڈیٹا بھی آن لائن دستیاب ہوگا۔انہوں نے نجی تعلیمی اداروں سے کہا کہ انہیں بلاوجہ پریشان نہیں کیا جانا چاہئے، ان کا بنیادی کام معیاری تعلیم کی فراہمی ہے، پیرا کی جانب سے ریگولیٹری امور کو سہل اور شفاف بنانے کے لئے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ تقریب میں پیرا کے چیئرمین اور عملے کے علاوہ متعلقہ حکام اور نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں