پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران سرحد پار دہشت گرد حملوں میں 4,700 پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی۔افغانستان کی صورتحال پر سلامتی کونسل …
طالبان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی ،پاکستانی مندوب کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں اظہار خیال

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔17ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران سرحد پار دہشت گرد حملوں میں 4,700 پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی۔افغانستان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے طالبان اور ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت دیگر گروہوں کے درمیان ’’گہرے گٹھ جوڑ‘‘ کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی عناصر کی جانب سے افغانستان کے اندر پراکسی گروہوں کی حمایت بھی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ پاکستانی مندوب نے واضح طور پر کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے عناصر پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے پراکسیز کی حمایت کر رہے ہیں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اس دہشت گردی کی یلغار کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتا اور ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی افواج افغانستان سے انخلا کے وقت سابق افغان حکومت کے استعمال کے لیے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود چھوڑ گئی تھیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) پر زور دیا کہ وہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت اور حوالہ نیٹ ورکس کے ذریعے غیر قانونی منی لانڈرنگ کی رپورٹنگ کرے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے رابطوں، انسانی امداد اور علاقائی تعاون کے ذریعے افغانستان کے استحکام کی حمایت کی، تاہم افغانستان کے دوبارہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے کے باعث امیدیں اب تشویش میں تبدیل ہوگئی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ 5 سال قبل عالمی برادری کی جو امیدیں اور توقعات وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں اور وقت کے ساتھ مایوسی میں بدل گئیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، سیاسی شمولیت کا فقدان، شدید معاشی دباؤ اور افغانستان سے بڑھتا ہوا دہشت گردی کا خطرہ عالمی برادری کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توقع تھی کہ طالبان دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کریں گے، تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
پاکستانی سفیر نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر طالبان کی پابندیاں اسلامی اصولوں سے متصادم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک ناکافی عالمی معاونت کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے بڑے مسئلے سے بھی نمٹا، جن میں غیر دستاویزی افراد بھی شامل ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان محدود وسائل کے باوجود اب بھی ہزاروں ضرورت مند افغان شہریوں کی مدد کر رہا ہے۔عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے طالبان کو ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ وہ خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار ثابت ہوسکیں۔







