لاہور۔ 30 مئی (اے پی پی)کرغزستان کے سفیر ایریک بشیمیونے کہا ہے کہ کرغزستان اٹھارہ کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل بڑی مارکیٹ ہے، تاجر برادری کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا نا چاہئے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر اور نائب صدر میاں زاہد جاوید …
کرغزستان پاکستان کیلئے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کیلئے پل کا کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستانی تاجر بہت سی رعایات کے ساتھ اپنی مصنوعات وہاں برآمد کرسکتے ہیں،ایریک بشیمیو
لاہور۔ 30 مئی (اے پی پی)کرغزستان کے سفیر ایریک بشیمیونے کہا ہے کہ کرغزستان اٹھارہ کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل بڑی مارکیٹ ہے، تاجر برادری کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا نا چاہئے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ، سینئر نائب صدر علی حسام اصغر اور نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد نے بھی اس موقع پر خطاب کیا جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی اراکین شہریار علی ملک، حاجی آصف سحر، شہزاد اسلم، حارث عتیق اور ملک محمد خالد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سفیر نے کہا کہ کرغزستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے پل کا کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستانی تاجر بہت سی رعایات کے ساتھ اپنی مصنوعات وہاں برآمد کرسکتے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان جغرافیائی طور پر خطے کے اہم مقامات پر واقع ہیں اور دونوں باہمی تجارت اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دے کر ایک دوسرے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرغزستان معاشی ترقی کی راہ پر ہے، اس کے کان ، بجلی کے سامان کی تیاری ، آئی ٹی سیکٹر اور زراعت کے شعبوں میں تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع وسیع پیمانے پر پیدا ہورہے ہیں، کرغزستان سیاحتی مقامات اور معدنیات سے مالا مال ہے۔لاہور چیمبر کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین بہترین دوستانہ اور خوشگوار تعلقات ہیں مگر دوطرفہ تجارت ان تعلقات کی عکاسی نہیں کرتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو طرفہ تجارت کی اتنی کم سطح کی بنیادی وجوہات ایک دوسرے کی منڈیوں کے بارے میں معلومات اور براہ راست اور با ضابطہ بینکنگ چینلز کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ پر زور دے رہا ہے ، کرغستان اور چین کے مابین ایک طویل مشترکہ سرحد ہے۔ ایک بار پاک سی پیک مکمل طور پر فعال ہوجانے کے بعد ، پاکستان اور کرغستان دونوں کے بہتر رابطے کیلئے ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی آسان ہو جائے گی۔لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر علی حسام اصغر اور نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد نے کہا کہ پاکستان کرغزستان کو جوتے ، ملبوسات ، اونی دھاگا، تمباکو ، ٹریکٹروں کے پارٹس اور اور گندم سمیت دیگر اشیاء وسیع پیمانے پر برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے نمائشوں کے انعقاد اور تجارتی وفود کے تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔









