کرپشن کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے نیب کی انسداد بدعنوانی کی موثر اور فعال حکمت عملی کا اعتراف کیا ہے،چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کی ایک موثر اور فعال حکمت عملی تیار کی ہے جس کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے اعتراف کیا ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بہترین …

اسلام آباد ۔ یکم جولائی (اے پی پی) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کی ایک موثر اور فعال حکمت عملی تیار کی ہے جس کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے اعتراف کیا ہے، نیب کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بہترین نتائج برآمد ہوئے ہیں، اسی طرح گیلانی اور گیلپ کے سروے کے مطابق پاکستان کے 59 فیصد لوگوں کو نیب پر پورا پورا اعتماد ہے، آج نیب کی فعال انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کی وجہ سے، نیب کا مجموعی طور پر سزا کا تناسب تقریبا 68.8 فیصد ہے جو دنیا میں وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں نمایاں کامیابی ہے، نیب ہر قسم کی بدعنوانی کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ نیب کی اصل توجہ بدعنوانی جیسے منی لانڈرنگ، بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکہ دہی کے واقعات، بینک فراڈ، جان بوجھ کر بینک قرض نادہندگی، اختیارات کے غلط استعمال اور ریاستی فنڈز کے غبن پر مرکوزہے۔ نیب کے قیام کے بعد سے اب تک 466.069ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے گئے جو کہ2019کی سالانہ رپورٹ کے مطابق نمایاں کامیابی ہے، 2017 نیب کی بحالی کا سال ہے، نیب کی ادارہ جاتی خامیوں، خوبیوں اور آپریشنز، پراسیکیوشن، ہیومن ریسورس، آگاہی اور تدارک سمیت تمام شعبوں کے تفصیلی تجزیہ کے بعد فعال بنایاگیاہے۔ نیب کو 2019میں مجموعی طور پر 53643شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 42760پراسس کی گئیں جبکہ 2018میں 48591شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 4141کو نمٹایا گیا۔ نیب نے 2019میں 1308شکایات کی جانچ پڑتال کی۔1686انکوائریاں اور 609انویسٹی گیشنز نمٹائی گئیں اور بدعنوان عناصر سے 141.542ارب روپے وصول کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ یہ ٹیم ایک ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسر اور لیگل کنسلٹنٹ پر مشتمل ہے۔ اس سے نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔نیب نے راولپنڈی میں اپنی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے۔ 2019میں اس لیبارٹری سے 5کیسز میں 300انگوٹھوں کے نشانات، 15747سوالیہ دستاویزات اور ڈیجیٹل فرانزک کیلئے 7ڈیوائسز( لیپ ٹاپ، موبائل ونز اور ہارڈڈسک وغیرہ کا فرانزک تجزیہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت پاکستان میں فوکل ادارہ ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آگاہی ، تدارک اور انفورسمنٹ کی انسداد بدعنوانی کی اپنی سہہ جہتی حکمت عملی کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے بدعنوانی کے خلاف کنوینشن (یو این سی اے سی) پر عمل پیرا ہے جس کے چیئرمین نیب جاوید اقبال کی متحرک قیادت میں بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سارک ممالک کے انسداد بدعنوانی کے حکام سے سارک اینٹی کرپشن فورم کے قیام کی تجویز کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا ہے۔ نیب نے اسلام آباد میں اپنی نوعیت کے پہلے اجلاس کی میزبانی کی جہاں بھارت سمیت سارک ممالک کے انسداد بدعنوانی کے اداروں کے سربراہوں نے سارک اینٹی کرپشن فورم کے قیام پر اتفاق کیا اور نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے۔ یہ نیب کے عمدہ کام کا اعتراف ہے کیونکہ نیب کو سارک ممالک میں ایک رول ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلی ادارہ نیب دنیا کا واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے پاکستان میں سی پیک کے تحت کئے جانے والے منصوبوں کی نگرانی کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط پاکستان اور چین کے مابین معاشی اور تجارتی تعاون میں اضافے کے پس منظر میں خاص طور پر اہم ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان منصفانہ ، غیر جانبدارانہ اور بدعنوانی سے پاک ماحول میں کام کرنے کے عزم کے کا اظہار ہوتاہے۔