کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کی ابتدا ہر فرد کو اپنے آپ سے کرنی چاہیے، کرپشن کے خلاف جدوجہد صرف نیب یا اینٹی کرپشن جیسے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے
کرپشن کے خاتمہ کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، کمشنر

مزید خبریں
ایبٹ آباد۔ 08 ستمبر (اے پی پی):کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کی ابتدا ہر فرد کو اپنے آپ سے کرنی چاہیے، کرپشن کے خلاف جدوجہد صرف نیب یا اینٹی کرپشن جیسے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ ایمانداری، دیانت، احتساب اور شفافیت ہی ایک ترقی یافتہ اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ایبٹ آباد اور ڈسٹرکٹ یوتھ آفس کے زیر اہتمام انسدادِ بدعنوانی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں منعقدہ سیمینار میں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) گوہر علی، ڈائریکٹر نیب خیبر پختونخوا خطاب گل آفریدی، ڈسٹرکٹ خطیب ایبٹ آباد، لائن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔کمشنر ہزارہ ڈویژن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنے روزمرہ معمولات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ بعض اوقات معمولی نوعیت کی بے ضابطگیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہی رویے آگے چل کر بڑے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معلم صحیح طور پر تعلیم و تربیت نہیں کررہا یا کوئی ڈرائیور مقررہ کرائے سے زائد وصول کر رہا ہے تو ایسی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی اور حوصلہ شکنی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن کو روکنا صرف احتسابی اداروں کا کام نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے،عوام کے تعاون کے بغیر شفاف احتساب ممکن نہیں، اس لیے حکومت، اداروں اور عوام کو مل کر بدعنوانی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ شاہد اللہ خان نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ ایمانداری، دیانت داری اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں۔ڈائریکٹر نیب خیبر پختونخوا خطاب گل آفریدی نے کہا کہ کرپشن صرف پاکستان تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کے خاتمے کے لیے مختلف قوانین اور ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا وژن کرپشن فری پاکستان ہے جس کے لیے احتساب کے ذریعے کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کے فروغ پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انسدادِ بدعنوانی کے حوالے سے آگاہی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے کریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب کو پانچ لاکھ سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں جن پر ضابطے کے مطابق مکمل جانچ پڑتال کے بعد کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کریں۔
سیمینار سے خطاب کرتے ڈسٹرکٹ خطیب ایبٹ آباد نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرپشن کے نقصانات اور اس کے دنیاوی و اخروی نتائج سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے بھی کرپشن کے خلاف تقاریر اور ٹیبلو پیش کیے اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔سیمینار کے اختتام پر انسدادِ بدعنوانی کے حوالے سے آگاہی واک بھی منعقد کی گئی، جس میں شرکاء نے کرپشن کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور شفاف، دیانتدار اور کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام کے عزم کا اظہار کیا۔








