پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ابھرتے ہوئے بیٹر سمیر منہاس نے کہا ہے کہ ان کا کرکٹ سفر اپنے بھائی کے ساتھ گلی میں کھیلنے سے شروع ہوا، تاہم والد نے انہیں کرکٹ اکیڈمی میں داخل کرایا جہاں سے ان کے کیریئر نے سنجیدہ رخ اختیار کیا۔
کرکٹ سفر گلی میں کھیلنے سے شروع ہوا، والد نے اکیڈمی میں داخل کرایا جہاں کیریئر نے سنجیدہ رخ لیا،سمیر منہاس

مزید خبریں
لاہور۔24جولائی (اے پی پی):پاکستان انڈر 19 ٹیم کے ابھرتے ہوئے بیٹر سمیر منہاس نے کہا ہے کہ ان کا کرکٹ سفر اپنے بھائی کے ساتھ گلی میں کھیلنے سے شروع ہوا، تاہم والد نے انہیں کرکٹ اکیڈمی میں داخل کرایا جہاں سے ان کے کیریئر نے سنجیدہ رخ اختیار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ لیگ سپنر تھے اور یاسر شاہ کو فالو کرتے تھے، لیکن کوچز نے ان کی بیٹنگ اور فیلڈنگ صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں اسی سمت آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔پروگرام "سٹریٹ ڈرائیو ود سلمان بٹ” میں گفتگو کرتے ہوئے سمیر منہاس نے کہا کہ کوچ طاہر محمود فیض نے انہیں کرکٹ کو پیشہ ورانہ انداز میں اپنانے کی ترغیب دی اور وہ 2013 سے ان کی نگرانی میں ٹریننگ کر رہے ہیں۔ سمیر منہاس نے بتایا کہ انڈر 16 کے بعد انہوں نے انڈر 19 سطح کی تیاری کے لیے سخت محنت کی۔ ایج گروپ کیمپس میں مختلف کوچز سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، جبکہ ملتان انڈر 19 پروگرام نے ان کی بہترین تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈر 19 پروگرام قومی ٹیم کے لیے باصلاحیت کھلاڑی تیار کرنے میں موثر ثابت ہوا۔انہوں نے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ اور آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایشیا کپ کے فائنل میں کوچز نے انہیں بے خوف کرکٹ کھیلنے کی ہدایت کی، جس پر عمل کرتے ہوئے بھارت کے خلاف اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کی۔سمیر منہاس نے کہا کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا سب سے بڑا ہدف پاکستان کی نمائندگی تینوں فارمیٹس میں کرنا ہے۔ ان کے مطابق ریڈ بال کرکٹ صبر، مزاج اور تکنیک کو نکھارتی ہے، جبکہ وائٹ بال کرکٹ میں سوچ سمجھ کر جارحانہ انداز اپنانا کامیابی کی کنجی ہے۔








