کسی سرکاری ملازم کو چارج شیٹ میں عائد الزامات سے مختلف یا اضافی الزامات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، وفاقی آئینی عدالت
کسی سرکاری ملازم کو چارج شیٹ میں عائد الزامات سے مختلف یا اضافی الزامات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کو چارج شیٹ میں عائد الزامات سے مختلف یا اضافی الزامات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، جب تک اسے نئے الزامات کا موثر دفاع کرنے کا موقع نہ دیا جائے، منصفانہ سماعت اور دفاع کا حق آئین کے تحت بنیادی تقاضا ہے۔
جسٹس روزی خان بریچ نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دو ملازمین کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ محکمانہ کارروائی میں چارج شیٹ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ملازم کے دفاع کی بنیاد ہوتی ہے، ملازم کو ان الزامات سے واضح اور غیر مبہم طور پر آگاہ کرنا ضروری ہے جن کا اسے سامنا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر محکمانہ کارروائی کے دوران الزامات میں بنیادی تبدیلی یا اضافہ کیا جائے تو ملازم کو نئے الزامات کا جواب دینے اور اپنا دفاع کرنے کا مناسب اور موثر موقع دینا لازم ہے، بصورت دیگر پوری کارروائی قانونی طور پر متاثر ہو جاتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے دونوں ملازمین کو ملازمت سے برطرفی کی تاریخ سے بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا 2 مئی 2024ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے کہا کہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ملازمین کے خلاف حیات آباد پشاور کے سیکٹر جے ٹو میں دو کنال کے پلاٹ کی مبینہ جعلی منتقلی کے معاملے میں چارج شیٹ میں ایک نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے جبکہ بعد کے شوکاز نوٹس میں مختلف اور وسیع الزامات شامل کر دئیے گئے۔فیصلے کے مطابق ایک ملازم پر موبائل فون ریکارڈ کی بنیاد پر پراپرٹی ڈیلر سے رابطے اور پلاٹ کا ریکارڈ فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تاہم یہ الزام اصل چارج شیٹ میں شامل نہیں تھا اور ملازم کو اس الزام کا جواب دینے یا اس کا دفاع کرنے کا موثر موقع نہیں دیا گیا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ انکوائری کے دوران مختلف گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے لیکن ملازمین کو گواہوں پر جرح کا موقع فراہم نہیں کیا گیا جو منصفانہ سماعت اور قانونی طریقہ کار کے تقاضوں کے منافی ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ مبینہ پلاٹ منتقلی کا معاملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا تھا اور ریکارڈ پر محکمہ یا قومی خزانے کو کسی حقیقی مالی نقصان کا ثبوت موجود نہیں۔ ممکنہ یا فرضی نقصان کو حقیقی مالی نقصان کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ محکمانہ کارروائی میں منصفانہ اور موثر دفاع کا موقع نہ دینا محض معمولی طریقہ کار کی خامی نہیں بلکہ کارروائی کی بنیاد کو متاثر کرنے والی قانونی خامی ہے، جسے بعد میں سزا میں کمی کرکے درست نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ ملازمین کے خلاف کارروائی ہی قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل نہیں ہوئی، اس لیے بدعنوانی کا نتیجہ اور اس بنیاد پر عائد سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے ملازمین کی بحالی کے ساتھ انہیں درمیانی عرصے کی بقایا تنخواہ اور دیگر قابل ادائیگی سروس فوائد دینے کا بھی حکم دیا اور ’’تعمیراتی تسلسل‘‘ کے اصول کا اطلاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ غیر قانونی برطرفی کی صورت میں ملازم کو اس پوزیشن پر بحال کیا جانا چاہیے جہاں وہ غیر قانونی اقدام نہ ہونے کی صورت میں موجود ہوتا۔عدالت نے واضح کیا کہ ملازم کو برطرفی یا ملازمت سے علیحدگی کی تاریخ سے مسلسل سروس میں تصور کیا جائے گا اور قانون کے مطابق تنخواہ، الائونسز، سالانہ اضافوں اور دیگر سروس فوائد کا حقدار ہوگا، بشرطیکہ اس عرصے کے دوران کسی دوسری جگہ فائدہ مند ملازمت ثابت نہ ہو۔عدالت نے دونوں درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ اس حد تک کالعدم قرار دیا جس میں بدعنوانی کا الزام برقرار رکھتے ہوئے ملازمین کو لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی تھی۔







