کشمیری خاتون رہنما شمیم شال نے اقوام متحدہ میں کشمیری لڑکی آصفہ بانو کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس اٹھایا

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) کشمیری خاتون رہنما شمیم شال نے یورپین پارلیمنٹ کی دو اراکین کے ہمراہ اقوام متحدہ میں آٹھ سالہ کشمیری لڑکی آصفہ بانو کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس کو اٹھایا۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 38ویں اجلاس کے دوران یہ ایک بڑا اور اہم سائیڈ ایونٹ تھا جس میں آصفہ بانو کیس اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سیرحاصل بحث …

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) کشمیری خاتون رہنما شمیم شال نے یورپین پارلیمنٹ کی دو اراکین کے ہمراہ اقوام متحدہ میں آٹھ سالہ کشمیری لڑکی آصفہ بانو کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کیس کو اٹھایا۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 38ویں اجلاس کے دوران یہ ایک بڑا اور اہم سائیڈ ایونٹ تھا جس میں آصفہ بانو کیس اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سیرحاصل بحث ہوئی۔ یہ سب ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں زیر بحث معاملات میں مسئلہ کشمیر سر فہرست ہے اور حال ہی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے۔محترمہ شمیم شال نے "انٹرنیشنل مسلم وومن یونین” کی جنیوا میں نمائندہ کی حیثیت سے امریکی غیر سرکاری تنظیم "وومنز یو این رپورٹ نیٹ ورک” کے ہمراہ اس سائیڈ ایونٹ کا انعقاد کیا۔ایک غیر سرکاری تنظیم "گلوبل ایجوکیشن آپرچیونیٹی پروگرام” کے ڈائریکٹر آفٹن بیوٹلر نے کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے میں انسانی حقوق کے اراکین کے کام کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق انسانی حقوق کے نمائندوں اور انسانی حقوق کونسل کو مسلسل آگاہ رکھنے پر محترمہ شمیم شال کو ان کی سالوں پر محیط انتھک کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا۔