فیصل آباد۔ 12 ستمبر (اے پی پی):شوگر کین ریسرچ ڈویلپمنٹ بورڈ نے کہا ہے کہ زراعت کے شعبہ میں انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کماد کی کاشت یقینی بنانے کے لیے ہالینڈ سے درآمد شدہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل گنے کے مشینی پلانٹرزسے ایک گھنٹے میں ایک ایکڑ سے بھی زائد رقبے پر کماد کی کاشت ممکن ہو سکتی ہے۔ ترجمان نے کہا …
کم وقت میں زیادہ رقبہ پر کماد کی کاشت کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، شوگر کین ریسرچ بورڈ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 12 ستمبر (اے پی پی):شوگر کین ریسرچ ڈویلپمنٹ بورڈ نے کہا ہے کہ زراعت کے شعبہ میں انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کماد کی کاشت یقینی بنانے کے لیے ہالینڈ سے درآمد شدہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل گنے کے مشینی پلانٹرزسے ایک گھنٹے میں ایک ایکڑ سے بھی زائد رقبے پر کماد کی کاشت ممکن ہو سکتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مشینی پلانٹر سے نہ صرف زمین کی تیاری کا وقت اور سرمایہ دونوں بچ سکیں گے بلکہ اس سے کماد کی فصل کا 20سے 30فیصد زیادہ اگاؤ بھی ممکن ہو گا جس سے فی ایکڑ پیداوار میں کم وبیش 200من فی ایکڑ سے زائد کا اضافہ متوقع ہے ۔
انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی کے لیے مشینی کاشت کی اہمیت مسلمہ ہے لہٰذا شوگر کین پلانٹر سے گنے کی معیاری کارکردگی میں زبر دست اضافہ متوقع ہے جو زرعی جدت سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کماد کی کاشت کو وسعت دینے کی پالیسی کے پیش نظر گنے کے مشینی پلانٹر ہالینڈسے امپورٹ کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گنے کی مشینی کاشت سے عام کاشتکار کی پیداوار میں اضافے سے نہ صرف کاشتکار کی مالی حیثیت مستحکم بلکہ ملکی زرعی پیداوار میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔








