کنٹریکٹ ملازمین کی سنیارٹی ریگولرائزیشن ایکٹ 2013 کے نفاذ کی تاریخ سے شمار ہوگی، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ حکومت کے محکمہ زراعت سے تعلق رکھنے والے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے سنیارٹی کیس کے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ سندھ ریگولرائزیشن ایکٹ 2013 کے تحت ریگولر ہونے والے ملازمین کی سنیارٹی 25 مارچ 2013، یعنی قانون کے نفاذ کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ حکومت کے محکمہ زراعت سے تعلق رکھنے والے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے سنیارٹی کیس کے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ سندھ ریگولرائزیشن ایکٹ 2013 کے تحت ریگولر ہونے والے ملازمین کی سنیارٹی 25 مارچ 2013، یعنی قانون کے نفاذ کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سندھ سروس ٹریبونل کا 27 جنوری 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزاروں کی اپیلیں منظور کر لیں۔عدالت کے مطابق درخواست گزار 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (بی پی ایس-17) کے طور پر کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات ہوئے تھے۔ سندھ (ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن) ایکٹ 2013 کے تحت ان کی ملازمتیں ریگولر کی گئیں اور بعد ازاں 16 جنوری 2018 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ان کی ریگولرائزیشن کو 25 مارچ 2013 سے مؤثر قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایکٹ 2013 کی دفعہ 3 میں شامل "ڈیمنگ کلاز” (Deeming Clause) اور "نان آبسٹینٹ کلاز” کے تحت ایسے ملازمین کو قانون کے نفاذ کے دن سے ہی باقاعدہ تعینات تصور کیا جائے گا۔ اس قانونی تصور کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ محکمہ نے ڈپٹی ڈائریکٹرز (بی پی ایس-18) کی حتمی سینیارٹی فہرست میں درخواست گزاروں کی ریگولر تقرری کی تاریخ 25 مارچ 2013 کے بجائے 16 جنوری 2018 درج کر دی، جو قانون اور پہلے سے جاری نوٹیفکیشنز کے منافی تھا۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ سندھ سروس ٹریبونل نے ایکٹ 2013 کے قانونی اثرات اور "ڈیمنگ کلاز” کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا۔

جب قانون خود ملازمین کو 25 مارچ 2013 سے ریگولر تصور کرتا ہے تو اس کے لازمی نتائج، بشمول سنیارٹی، بھی اسی تاریخ سے مرتب ہوں گے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس مخصوص معاملے میں عام اصول، جس کے تحت سنیارٹی ریگولرائزیشن کے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے شمار کی جاتی ہے، لاگو نہیں ہوتا کیونکہ یہاں قانون نے خود ایک قانونی فکشن (Legal Fiction) پیدا کیا ہے۔عدالت نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کی سینیارٹی 25 مارچ 2013 سے تسلیم کرتے ہوئے قواعد و قانون کے مطابق نظرثانی کی جائے اور ان کے سروس حقوق کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے۔

مزید خبریں