پانی کو ہتھیار بنانا ناقابل قبول، عالمی آبی انصاف وقت کی اہم ضرورت ہے، مصدق ملک

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان ناقابل قبول سمجھتا ہے کیونکہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، روزگار، خوراک، زراعت، معیشت اور قومی سلامتی سے براہ راست وابستہ ہے۔

اسلام آباد/برسلز۔18جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان ناقابل قبول سمجھتا ہے کیونکہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، روزگار، خوراک، زراعت، معیشت اور قومی سلامتی سے براہ راست وابستہ ہے۔

وفاقی وزیر یورپ کے ممتاز پالیسی ادارے سینٹر فار یورپی یونین پالیسی اسٹڈیز (ایس ای پی ایس)کی دعوت پر برسلز پہنچ گئے ہیں جہاں وہ جمعرات کو منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس "سرحد پار آبی وسائل: ایک ہتھیار بنائے گئے عالمی مشترکہ وسائل” میں شرکت کریں گے۔

کانفرنس کا انعقاد مرکز برائے یورپی پالیسی مطالعات اور یورپی یونین، بیلجیم اور لکسمبرگ میں پاکستان کے سفارت خانے کےاشتراک سے کیا جا رہا ہے۔کانفرنس میں یورپی پارلیمنٹ کے اراکین، بین الاقوامی قانون کے ماہرین، سفارت کاروں، پالیسی سازوں، ماہرین ماحولیات اور آبی وسائل کے شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔ شرکاموسمیاتی تبدیلی، عالمی آبی سلامتی، سرحد پار آبی وسائل کے انتظام، سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں پانی کے بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی کردار پر تبادلہ خیال کریں گے۔

کانفرنس میں شرکت سے قبل خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل قبول سمجھتا ہے کیونکہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے روزگار خوراک زراعت معیشت اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

مزید خبریں