سینیٹ نے جاری منصوبوں کو ترجیحاً مکمل کرنے، ایس ایم ایز کے لئے ٹیکس کا طریقہ کار آسان بنانے ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے سمیت بجٹ سے متعلق 123 سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانے کی منظوری دیدی

سینیٹ نے جاری منصوبوں کو ترجیحاً مکمل کرنے، ایس ایم ایز کے لئے ٹیکس کا طریقہ کار آسان بنانے ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے سمیت بجٹ سے متعلق 123 سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانے کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):سینیٹ نے مالیاتی بجٹ 27 ۔ 2026 ء سے متعلق 123 سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانے کی منظوری دیدی۔ ان سفارشات میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے پیش کی گئیں 108 اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے پیش کی گئیں 15 سفارشات شامل ہیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا جائے۔ جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے مالی بجٹ 27 ۔ 2026 سے متعلق کمیٹی کی سفارشات ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ بعد ازاں انہوں نے یہ سفارشات ایوان میں پیش کیں، ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو پٹرولیم لیوی سے الگ رکھا جائے۔

ماحولیاتی اثرات سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے بروئے کار لانا چاہئے، کم آمدن افراد اور تنخواہ دار طبقہ کیلئے ٹیکسوں میں کمی کی جائے، مزور طبقات کیلئے ٹارگٹ سماجی تحفظ پروگراموں کو توسیع دی جائے، اشیائے خوراک، ادویات، تعلیمی مواد اور زرعی آلات پر جی ایس ٹی میں کمی کی جائے۔ بنیادی ضروریات زندگی پر نئے ٹیکس نہ لگائے جائیں، بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں، کیپسٹی پیمنٹس اور گردشی قرضوں میں کمی کیلئے شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے۔ کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو ٹارگٹ سبسڈی فراہم کی جائے، کھاد، بیج ، زرعی ادویات اور زرعی مشینری پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں کمی کی جائے، پانی کے ذخیرے اور زرعی تحقیق کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے، سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی صحت عامہ کیلئے وفاقی فنڈز میں اضافہ کیا جائے، اعلیٰ تعلیم ، وظائف اور پیشہ وارانہ تربیتی پروگراموں کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔

مختص اداروں یا شعبوں کو دیئے گئے تمام ٹیکس استثنا کو شائع کیا جائے، سرکاری قرضے ، گردشی قرضے اور کلیدی سرکاری شعبہ کے اخراجات کے بارے میں پارلیمنٹ کو ہر تین ماہ میں رپورٹ دی جائے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کم کئے جائیں، درمیانی مدت کے قرضوں میں کمی کیلئے پارلیمنٹ میں حکمت عملی پیش کی جائے۔ ایس ایم ایز کیلئے ٹیکس کا طریقہ کار آسان بنایا جائے، روزگار پیدا کرنے والی صنعتوں کیلئے قرضوں اور مراعات میں آسانی پیدا کی جائے، تحفظ خوراک، قحط سے نمٹنے اور کلائمیٹ ریزیلنٹ انفراسٹرکچر کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے، قومی اسمبلی کو اشیائے ضروریہ اور تنخواہ دار طبقات پر مجوزہ ٹیکسوں پر ازسرنو غور کرنا چاہئے۔ ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا چاہئے، مقامی بیٹری مینوفیکچررز، درآمدی لیتھیم آئن سیلز خام مال کے طورپر استعمال کرتے ہیں، اس پر سبسڈی یا ٹیکس ریلیف دیا جائے، مقامی سطح پر اس کی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیرف سٹرکچر ہم آہنگ کیا جائے، بجلی بلوں پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ایف سی سرچارج اور جی ایس ٹی جیسے اضافی چارجز کو واپس لیا جائے۔

تنخواہ دار طبقہ کو انکم ٹیکس میں ریلیف دیا جائے، تنخواہ دار طبقہ کی60 لاکھ سے کم سالانہ آمدن کو ٹیکس فری قرار دیا جائے، مہنگائی میں تنخواہ دار طبقہ کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے، مڈل طبقہ کے تحفظ اور مہنگائی کے دبائو کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ آئی ٹی برآمد کنندگان اور فری لانسرز کو مزید 10 سال کیلئے ٹیکس مراعات دی جائیں۔ 3 ہزار سی سی سے زائد لگژری گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، مقامی حکومتوں کو براہ راست چینلز کے ذریعے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے وفاقی سطح پر طریقہ کار وضع کیا جائے، کاشتکار کیلئے ڈیزل، ٹیوب ویلز، سرٹیفائیڈ بیجوں، کھادوں اور فارم مشینری کیلئے ٹیکس استثنا پر سبسڈی دی جائے، ہائی ویلیو ریٹل رئیل اسٹیٹ اور نان فائلرز کی زیادہ ٹرانزیکشن پر جامع دستاویزی اور ٹیکس اقدامات کئے جائیں، سکل ڈویلپمنٹ، آئی ٹی ٹریننگ ، انٹرپرینیور شپ فنانسنگ اور سٹارٹ اپ انکیوبیشن کیلئے یوتھ اپلائمنٹ فنڈ مختص کئے جائیں۔

500 ملین سے کم پر سپر ٹیکس ختم نہ کیا جائے اور 500 ملین سے اوپر کی رقم پر سپر ٹیکس 10 فیصدسے 8 فیصد نہ کیا جائے، درآمدی چاکلیٹ اور دیگر پریمیئر فوڈ، درآمدی کاسمیٹکس، پرفیومز، گھڑیوں، جیولری، مہنگے موبائلز، لکژری گاڑیوں، 1800 سی سی سے اوپر ایس یو ویز مصنوعات پر ایف ای ڈی، کسٹم ڈیوٹی ، ریگولیٹری ڈیوٹی اور ودہولڈنگ ٹیکس بڑھایا جائے، غیر ضروری درآمدی اشیاء پر 5 سے 10 فیصد ، لکژری کنزپشن لیوی عائد کی جائے، 1300 سے زائد نئی گاڑیوں، لکژری ایس یو ویز اور ڈبل کیبن گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس اور رجسٹریشن ٹیکس عائد کیا جائے، 1300 سی سی سے کم سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں پر ٹیکس کم کیا جائے، مقامی سطح پر تیار کردہ چھوٹے انجن والی گاڑیوں پر ٹیکس کم کیا جائے، سگریٹ اور تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھائی جائے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے ذرائع پر سیلز ٹیکس استثنیٰ کو بحال کیا جائے، جان بچانے والی ادویات کو انکالوجی ایکٹو فارماسیوٹیکلز انگریڈننس سے استثنیٰ دیا جائے، موسمیاتی سمارٹ ایریگیشن آلات اور زرعی مشینری کو سیلز ٹیکس سے استثنا دیا جائے، رنگ فینسڈ نیشنل ڈیزاسٹر رسک، فنانسنگ میکنزم تشکیل دیا جائے، ڈیجیٹل کنٹنٹ کریٹر ودہولڈنگ ٹیکس کو تھوڑی کمائی کے تناظر میں دیکھا جائے، مخصوص فنڈز مختص کر کے ذمہ دار صنفی بجٹ کو فروغ دیا جائے، اشیائے ضروریہ کے ڈسٹری بیوٹرز کے تحفظ کیلئے ٹیکس میں کم سے کم اضافہ کیا جائے، پٹرولیم لیوی میں شفافیت لائی جائے، تعلیمی سٹیشنری پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے، موٹر سائیکل سواروں کیلئے پٹرولیم لیوی بالکل ختم کی جائے، کھادوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی کی جائے، کھاد کے ڈیلروں اور ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکسوں میں ردوبدل کیا جائے، یونیورسٹیوں کیلئے کثیر سالہ مالیاتی حکمت عملی وضع کی جائے، یونیورسٹی کے اساتذہ اور ریسرچ اداروں کیلئے ٹیکس استثنیٰ اور مراعات بحال کی جائیں، سرکاری یونیورسٹیوں کیلئے پنشن سپورٹ میکنزم وضع کیا جائے۔

انوویشن پراجیکٹ ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن سمیت دیگر شعبوں کیلئے ریسرچ گرانٹس مختص کی جائے، یونیورسٹیوں میں ٹیکنالوجی پارکس ، ریسرچ سنٹرز سمیت دیگر اقدامات کے ذریعے بااختیار بنایا جائے، کپاس کے بیجوں پر سیل ٹیکس استثنا دیا جائے، برآمد کنندگانوں کیلئے ایک فیصد ، فائنل ٹیکس رجیم بحال کیا جائے، ایئر پورٹ پر تعینات کسٹم افسران و اہلکاروں کیلئے یونیفارم ضروری قرار دیا جائے۔ صنعتوں کیلئے بجلی اور گیس ٹیرف کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں، ٹیلی کام خدمات پر ایڈوانس ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کیا جائے، مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے 15 فیصد کی جائے، کیڈٹ کالج ملتان تک رسائی کیلئے پرانا شجاع آباد روڈ ملتان کی تعمیر کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں۔

اسی طرح سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے 15 سفارشات جمع کرائی گئی ہیں۔ سینیٹ نے تجویز دی ہے کہ پی ایس ڈی پی کے تحت کوئی نئی سکیم شروع نہ کی جائے بلکہ جاری سکیموں پر کام مکمل کیا جائے کیونکہ نئی سکیموں پر کام شروع کرنے سے پرانی سکیموں پر جاری کام میں تاخیر ہو گی، 2 ہزار ملین لاگت سے حب سپیشل اکنامک زون لسبیلہ کی جاری سکیم کو ختم کیا جائے، غیر منظور شدہ مارگلہ ایونیو لنک روڈ ٹو ایم ون کو ختم کیا جائے، لاہور میں حج کمپلیکس کی تعمیر کیلئے مختص اضافی فنڈز 895 ملین روپے کو آئندہ مالی سال میں فنڈز کی دستیابی سے مشروط کیا جائے، پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے زیر سایہ جاری سکیموں کیلئے مختص فنڈز کے بارے میں ہر تین ماہ رپورٹ کا جائزہ لیا جائے، یہ سکیمیں اب صوبائی حکومتیں مکمل کر رہی ہیں، سینیٹ نے یہ بھی سفارش کی کہ این 50 کچلاک ژوب سیکشن دو رویہ کرنے کیلئے مختص فنڈز کیلئے متبادل ذرائع کو بروئے کار لایا جائے۔

حیدر آباد سکھر (306) کلو میٹر 6 لین کی تعمیر کے منصوبے کیلئے مختص 40 ارب روپے جاری کئے جائیں، نوکنڈی مشخیل روڈ (103)کلو میٹر حیدر آباد سکھر (306) کلو میٹر 6 لین کو مربوط راہداری تصور کیا جائے اور اس کیلئے ترجیح بنیادوں پر فنڈز فراہم کئے جائیں، مکمل ہونے کے قریب منصوبوں کیلئے فوری فنڈز جاری کئے جائیں۔ وزیراعظم ای سپورٹس اریناز اور ٹریننگ سنٹرز کے قیام کے نئے منصوبے کو ختم کیا جائے، کاسا 1000 منصوبے کے تحت پاکستان اور تاجکستان کے درمیان 500کے وی ایچ وی ڈی سی ترسیلی نظام کے مجوزہ روٹ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور اسے ہم آہنگ بنایا جائے۔ پاور ڈویژن کے تحت غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی سکیموں کے بقایا جات کی ادائیگی اور دیگر وعدوں کے بارے میں پی ایس ڈی پی میں واضح نکتہ نظر بیان کیا جائے۔ وفاقی سرکاری اداروں کی استعداد کار میں اضافے، پالیسی پروگراموں اور منصوبوں کی تیاری کیلئے مختص تقریباً 1.4 ارب روپے کے فنڈز نجکاری ڈویژن کو منتقل کیا جائیں۔ پاکستان رائزز ریونیو پراجیکٹ کے انوسٹمنٹ پراجیکٹ فنانسنگ منصوبے کے تحت اضافی فنڈز کی فراہمی آئندہ مالی سال میں فنڈز کی دستیابی سے مشروط کی جائے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قانون سازی کی جانچ پڑتال، قوانین کا تفصیلی جائزہ، ادارہ جاتی احتساب اور متعلقہ فریقین کی شمولیت کے حوالے سے کمیٹی نے اہم کردار ادا کیا۔ کمیٹی نے مجموعی طور پر 30 اجلاس منعقد کیے۔ان اجلاسوں میں بجٹ کی جانچ پڑتال، فنانس بلز کا جائزہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، سرکاری اداروں کی کارکردگی، آڈٹ اعتراضات، تجارتی سہولت کاری اور مالیاتی و ابھرتے ہوئے اقتصادی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اس رپورٹ کا مقصد ادارہ جاتی یادداشت کو محفوظ رکھنا اور سینیٹ کے ریکارڈ میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی کارکردگی کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنا ہے۔میں کمیٹی کے تمام معزز اراکین، وزارتِ خزانہ، ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پاکستان، ایس ای سی پی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام متعلقہ فریقین اور کمیٹی سیکرٹری کا سال بھر تعاون اور معاونت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تمام عملے نے کئی راتیں جاگ کر کام کیا تاکہ یہ رپورٹ مکمل ہو سکے۔ کمیٹی کے ہر رکن نے اس رپورٹ کو موثر اور بامعنی بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ بجٹ ایسے حالات میں پیش کیا گیا ہے جب خطے اور دنیا کو مختلف معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات کے اثرات پاکستان پر بھی خاص طور پر پڑے ہیں کیونکہ ہماری معیشت عالمی صورتحال سے متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ تحریک پیش کی کہ قائمہ کمیٹی سے منظور شدہ ان سفارشات کو منظور کیا جائے جس کی ایوان نے منظوری دے دی جس کے بعد وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تحریک پیش کی کہ قائمہ کمیٹی سے منظور شدہ ان سفارشات کو غور کیلئے قومی اسمبلی میں بھیجا جائے جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔

مزید خبریں