اکستانی کرکٹ کی تاریخ کا 18 جون 2017 ایک سنہرا باب ہے، جب قومی ٹیم نے تمام تر توقعات کے برعکس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں روایتی حریف بھارت کو180 رنز سے شکست دے کر پہلی بار یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔
قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کی بدولت چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میچ میں بھارت کوشکست دے کر اعزاز اپنے نام کیا،کپتان سرفراز احمد

مزید خبریں
لاہور۔18جون (اے پی پی):پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا 18 جون 2017 ایک سنہرا باب ہے، جب قومی ٹیم نے تمام تر توقعات کے برعکس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں روایتی حریف بھارت کو180 رنز سے شکست دے کر پہلی بار یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ اس تاریخی کامیابی کو آج نو سال مکمل ہو گئے ہیں، تاہم اس فتح کی یادیں آج بھی شائقینِ کرکٹ کے دلوں میں تازہ ہیں۔ قومی ٹیم کے اس وقت کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اٹھانا ان کے کیریئر کا یادگار ترین لمحہ تھا۔
ان کے مطابق یہ کامیابی پوری ٹیم، کوچنگ سٹاف، مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھی۔فائنل میں سنچری بنانے والے فخر زمان نے کہا کہ فائنل میں کھیلی گئی اننگز اور وہ تاریخی دن آج بھی ان کی یادوں کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی نے انہیں بہت کچھ سکھایا اور ان کے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا۔ قومی ٹیم کے سپنر ابرار احمد نے بتایا کہ انہوں نے2017 کا فائنل گھر بیٹھ کر دیکھا تھا اور پاکستان کی جیت پر بے حد خوشی محسوس کی تھی۔ ان کے بقول جب سرفراز احمد ٹرافی کراچی لائے تو وہ ان کے گھر گئے تھے، تاہم رش کی وجہ سے ٹرافی کو قریب سے نہیں دیکھ سکے۔ ابرار احمد نے کہا کہ آج ٹرافی کو قریب سے دیکھنا ان کے لیے ایک خاص لمحہ ہے۔
فاسٹ بولر خرم شہزاد نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کے لیے لگائے گئے کیمپ کے دوران وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستان ٹیم کے نیٹ بولر تھے اور اس کامیابی کو وہ آج بھی فخر سے یاد کرتے ہیں۔ آل رائونڈر عامر جمال نے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنا پوری قوم کے لیے فخر کا لمحہ تھا اور سیمی فائنل و فائنل کی یادیں آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میں ویرات کوہلی کا کیچ ڈراپ ہونے پر سب دبائو میں آ گئے تھے، تاہم اگلی ہی گیند پر شاداب خان کے شاندار کیچ نے پاکستان کو دوبارہ مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلائی اور ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے۔







