کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل پوسٹوں کی منظوری دے دی گئی ،افسران و عملے کی تعیناتی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل پوسٹوں کی منظوری دے دی گئی ،افسران و عملے کی تعیناتی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل پوسٹوں کی منظوری دے دی گئی ہے اور ان پر افسران و عملے کی تعیناتی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔ بلوچستان میں عوام کو ان کی دہلیز پر سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، صوبے میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ سول حکومت اور سرکاری محکموں تک عوام کی رسائی آسان بنائی جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شمالی ڈیرہ بگٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث اب شروع ہوئی ہے، جبکہ انہوں نے بلوچستان کے مخصوص حالات اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل پر دو سال قبل ہی کام شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے کو اس انداز میں تشکیل دینا ضروری ہے کہ ریاستی اداروں اور سول حکومت کی موجودگی عوام کے قریب ہو اور لوگوں کو سرکاری امور کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رکھنی کو بلوچستان کا مثالی ڈویژن بنانے اور ترقی کے میدان میں نمایاں مقام دلانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ رکھنی میں ترقیاتی کاموں کو بدعنوانی کے مافیا اور کمیشن کی لعنت سے پاک رکھنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات خود ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کر رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ رکھنی کو ایک ایسا مثالی ڈویژن بنایا جائے جہاں ترقیاتی منصوبے شفاف انداز میں مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات حاصل ہوں۔گوادر میں دہشت گردی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تعمیراتی کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس کی قربانیاں اور کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست کے بعد صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کے رجحان میں کمی آنا ایک مثبت پیش رفت ہے، جو سکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بلوچستان سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ فرمائے۔

P

مزید خبریں