کپتان قومی کرکٹ ٹیم سلمان علی آغا نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں شکست کی مکمل ذمہ داری قبول کرلی

کینیڈی ۔1مارچ (اے پی پی):پاکستان ٹی 20کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے اخراج کے بعد ایک تفصیلی پریس کانفرنس میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے شکست کی مکمل ذمہ داری قبول کرلی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پورے ٹورنامنٹ کا جائزہ لیا جائے تو ٹیم توقعات پر پورا نہیں اتر سکی اور اہم مواقع …

کینیڈی ۔1مارچ (اے پی پی):پاکستان ٹی 20کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے اخراج کے بعد ایک تفصیلی پریس کانفرنس میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے شکست کی مکمل ذمہ داری قبول کرلی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پورے ٹورنامنٹ کا جائزہ لیا جائے تو ٹیم توقعات پر پورا نہیں اتر سکی اور اہم مواقع پر دباؤ کو مؤثر انداز میں سنبھالنے میں ناکام رہی۔کولمبو میں پریس کانفرنس میں سلمان آغا نے کہا کہ ٹیم نے پورے ایونٹ میں تسلسل کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ان کے مطابق جب ٹیم مسلسل دباؤ میں ہو تو فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے اور یہی معاملہ اس ٹورنامنٹ میں بھی دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ کے لمحات میں ہمارے فیصلے اس معیار کے نہیں تھے جیسے ہونے چاہییں، اور بطور کپتان وہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔انہوں نے ٹیم سلیکشن کے حوالے سے وضاحت کی کہ پلیئنگ الیون کا انتخاب وہ اور کوچنگ اسٹاف باہمی مشاورت سے کرتے رہے۔ کنڈیشنز، کمبی نیشن اور کھلاڑیوں کی فارم کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے گئے، تاہم عملی طور پر وہ فیصلے مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ نتائج کی ذمہ داری قیادت اور مینجمنٹ دونوں پر عائد ہوتی ہے۔بیٹنگ کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کپتان نے اعتراف کیا کہ چند کھلاڑیوں کے سوا زیادہ تر بیٹرز توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ انہوں نے خاص طور پر فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان کی اوپننگ شراکت کو سراہا، جنہوں نے سری لنکا کے خلاف 176 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا۔ فخر زمان کی جارحانہ اننگز کو سراہتے ہوئے سلمان آغا نے کہا کہ پاور پلے میں اسی قسم کی مثبت بیٹنگ کی ضرورت تھی۔

تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اوپنرز کے بعد مڈل آرڈر مکمل طور پر ناکام رہا اور ٹیم نے محض 34 رنز کے اضافے سے آٹھ وکٹیں گنوادیں، جو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ پورے ٹورنامنٹ میں بیٹنگ یونٹ، صاحبزادہ فرحان کے علاوہ، مؤثر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ بعض کھلاڑیوں کی فارم کو دیکھتے ہوئے کمبی نیشن ترتیب دیا گیا تھا، مگر اہم میچز میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سیمی فائنل تک رسائی کے لیے 65 رنز سے فتح درکار ہو تو حکمت عملی بھی اسی حساب سے ترتیب دی جاتی ہے، تاہم آخری اوورز میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں عملدرآمد بہتر نہ رہا۔

بولنگ کے حوالے سے سلمان آغا نے کہا کہ پاکستان ماضی میں ایک مضبوط بولنگ یونٹ کے طور پر جانا جاتا رہا ہے، لیکن اس میچ میں خاص طور پر آخری اوورز میں کارکردگی توقع کے مطابق نہیں تھی۔ آخری سات اوورز میں 100 رنز دینا اور آخری دو اوورز میں 40 رنز اس بات کا ثبوت ہے کہ دباؤ میں execution کمزور رہا۔ اپنی ذاتی کارکردگی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ بھی بیٹنگ میں خاطر خواہ کردار ادا نہ کر سکے اور بطور نمبر تین بیٹر وہ وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جو دوطرفہ سیریز میں دکھائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور کپتان اور بیٹر دونوں حیثیتوں سے وہ بہتر نتائج دینے کے خواہاں تھے مگر ایسا نہ ہو سکا۔کپتانی کے مستقبل سے متعلق سوال پر سلمان آغا نے واضح کیا کہ وہ فوری طور پر کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق وطن واپسی کے بعد بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کے حوالے سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ یہ پاکستان کا مسلسل چوتھا آئی سی سی ایونٹ ہے جس میں ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کر سکی، اس لیے اب ضروری ہے کہ خامیوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا جائے، خاص طور پر دباؤ میں فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جائے، تاکہ آئندہ بڑے مقابلوں میں ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھلاڑیوں کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا جاتا ہے ۔

سری لنکا کے خلاف پاور پلے میں تیز سکور کرنے کے لئے فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیا گیا اور وہ توقعات پر پورا اترے۔فخر زمان کو پہلے دیگر میچوں میں نہ کھیلانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پہلے فخر زمان کو بھی فارم کا مسئلہ تھا ۔انہوں نے کہا کہ آخری میچ میں سری لنکا کے بلے بازوں نے اچھا پرفارم کیا ۔پاکستانی ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں اپنی اہلیت کے مطابق نہیں کھیل سکی اس کی وجہ پریشر کو برداشت نہ کرنا ہے ۔