اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے لیے سفارتی اور کھیلوں کے میدان میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول کو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی ’ادارہ جاتی اصلاحات کمیٹی‘ کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اس وقت فیفا کی مختلف کمیٹیوں میں پاکستان کی واحد نمائندہ بن گئی ہیں۔سیدہ آمنہ بتول کی یہ تاریخی تقرری فیفا کی …
کھیلوں کے میدان میں پاکستان کے لیے تاریخی سنگ میل، رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول فیفا کی کمیٹی میں شامل
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے لیے سفارتی اور کھیلوں کے میدان میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رکن قومی اسمبلی سیدہ آمنہ بتول کو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی ’ادارہ جاتی اصلاحات کمیٹی‘ کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اس وقت فیفا کی مختلف کمیٹیوں میں پاکستان کی واحد نمائندہ بن گئی ہیں۔سیدہ آمنہ بتول کی یہ تاریخی تقرری فیفا کی جانب سے پاکستان کی ادارہ جاتی سمت پر اعتماد کی تجدید اور عالمی فٹ بال گورننس میں پاکستان کے مثبت و تعمیری کردار کا اعتراف ہے۔ یہ کامیابی موجودہ حکومت کی فٹ بال کے فروغ کے لیے کی جانے والی مسلسل اور سنجیدہ کوششوں کا ثمر ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے فٹ بال کو ایک آزاد، شفاف اور میرٹ پر مبنی کھیل کے طور پر فروغ دینے کے لیے واضح سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر اور فیفا کے سینئر نائب صدر شیخ سلمان بن ابراہیم آل خلیفہ سے ملاقات کی تھی جس میں ایک خودمختار فٹ بال فیڈریشن اور بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کے عزم کی توثیق کی گئی تھی۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے بھی پاکستان میں فٹ بال کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کے عزم کو سراہا ہے۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ماضی میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) غیر ضروری مداخلت کے باعث عالمی پابندیوں کا شکار رہی ہے تاہم گزشتہ چھ ماہ میں پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے فیڈریشن کی بحالی کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں۔حکومت پاکستان اب فٹ بال کو محض ایک کھیل نہیں بلکہ نوجوانوں کی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
مستقبل کے لائحہ عمل میں ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کو صنفی بنیادوں پر برابری سے جوڑنا شامل ہے جس کی ایک مثال مردوں کی قومی ٹیم کے لیے پہلی خاتون مینجر کی تقرری ہے۔ فیفا میں آمنہ بتول کا کلیدی کردار ادارہ جاتی اصلاحات کے نظام کو مضبوط بنانے اور ان پر موثر عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز رہے گا جس سے پاکستان عالمی فٹ بال برادری میں ایک باوقار اور معتبر رکن بن کر ابھرے گا۔









