کیوبا نے بجلی کے بحران کا ذمہ دار امریکی پابندیوں کو قرار دے دیا

کیوبا کی حکومت نے ملک میں جاری بجلی کے شدید بحران کا ذمہ دار امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پالیسیوں نے قومی توانائی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ہاوانا۔12جون (اے پی پی):کیوبا کی حکومت نے ملک میں جاری بجلی کے شدید بحران کا ذمہ دار امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پالیسیوں نے قومی توانائی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔شنہوا کے مطابق کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حکومت کے وہ دعوے بے بنیاد ہیں جن میں کیوبا کے بجلی کے نظام کی خراب حالت کا ذمہ دار ملکی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیوبا کا توانائی کا نظام حکومتی غفلت کا نہیں بلکہ ایک "بے رحم اقتصادی جنگ” کا شکار ہے۔ ان کے مطابق پابندیاں عائد کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ان اقدامات سے عام شہریوں کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے، تاہم وہ اس حقیقت کو "جھوٹ اور پروپیگنڈے” کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

برونو روڈریگیز نے کہا کہ 2017 اور 2026 میں جاری ہونے والی امریکی صدارتی یادداشتوں (NSPM-5) نے کیوبا کے خلاف مالی اور تجارتی دباؤ کو امریکی پالیسی کا بنیادی حصہ بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوری 2025 میں کیوبا کو دوبارہ امریکی فہرستِ "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں” میں شامل کیے جانے کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارتی لین دین اور مالیاتی سرگرمیوں پر مزید منفی اثرات مرتب ہوئے۔وزیر خارجہ کے مطابق کیوبا کے لیے ایندھن لے جانے والے بحری جہازوں کو جرمانوں، اثاثوں کی ضبطی، بین الاقوامی مالیاتی نظام سے اخراج اور حتیٰ کہ سمندر میں روک کر سامان ضبط کیے جانے کے خطرات کا سامنا رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 40 غیر ملکی بینکوں نے کیوبا کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 140 بینک ٹرانسفرز روک دیے گئے، جن میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی کی ادائیگیاں بھی شامل تھیں۔