گردشی قرضے میں 224 بلین روپے اضافہ کی خبر گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے، ترجمان پاور ڈویژن

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):ترجمان پاور ڈویژن نے میڈیا کے ایک حصے میں شائع ہونے والی اس خبر کو گمراہ کن، حقائق کے منافی، تازہ اعداد و شمار کے بغیر اور پاور ڈویژن کا مؤقف شامل کئے بغیر شائع شدہ قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران بینک ری فنانسنگ معاہدے (ستمبر 2025) کے باوجود گردشی قرضے میں 224 بلین روپے کا …

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):ترجمان پاور ڈویژن نے میڈیا کے ایک حصے میں شائع ہونے والی اس خبر کو گمراہ کن، حقائق کے منافی، تازہ اعداد و شمار کے بغیر اور پاور ڈویژن کا مؤقف شامل کئے بغیر شائع شدہ قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران بینک ری فنانسنگ معاہدے (ستمبر 2025) کے باوجود گردشی قرضے میں 224 بلین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

پیر کو جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ یہ امر نہایت اہم ہے کہ 30 جون 2025 کو موجودہ گردشی قرضے کے مجموعی حجم کا موازنہ نومبر 2025 کے اختتام پر موجودہ حجم سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ صرف پانچ ماہ کا عرصہ بنتا ہے۔ مزید برآں خبر میں گردشی قرضے میں تبدیلی کو غلط بنیادوں پر بینکوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے سے منسلک کیا گیا حالانکہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر PHPL کے مہنگے قرضے کو کم لاگت قرضے سے تبدیل کرنے کے لئے تھا اور اس قرضے کی ادائیگی کے لئے پانچ سے چھ سالہ منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔

اصولی طور پر جولائی تا نومبر 2025 کے عرصے کا موازنہ جولائی تا نومبر 2024 سے کیا جانا چاہئے تھا تاہم ایسا نہ کرنے سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ جولائی تا نومبر 2024 کے دوران گردشی قرضے میں اضافہ بنیادی طور پر موسمی عوامل کے باعث ہوا جو ماہانہ بنیادوں پر گردشی قرضے کی نقل و حرکت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور عموماً مالی سال کے اختتام تک خود بخود معمول پر آ جاتے ہیں۔ یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ دسمبر 2025 میں گردشی قرضے کے بہاؤ میں کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں جولائی تا دسمبر 2025 کے عرصے کے دوران مجموعی گردشی قرضہ بہاؤ 80 بلین روپے سے کم رہا۔

خبر میں خود اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران گردشی قرضے میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور جون 2025 تک یہ کم ہو کر 1,614 بلین روپے رہ گیا۔ یہ کمی ڈسکوز کی آپریشنل کارکردگی میں بہتری، میکرو اکنامک اشاریوں کے استحکام اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں لیٹ پیمنٹ انٹرسٹ کی معافی کے باعث ممکن ہوئی۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک گردشی قرضے کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں آ جائے گی اور مجموعی ذخیرے میں کوئی خالص اضافہ نہیں ہوگا۔ یہ توقع ماضی کے رجحانات سے ہم آہنگ ہے جہاں موسمی اتار چڑھاؤ مالی سال کے آخری حصے میں معمول پر آ جاتا ہے۔

مزید یہ کہ گردشی قرضے کے بہاؤ میں یہ موسمی تبدیلیاں صارفین کے لئے بجلی کے نرخوں پر کسی قسم کا اثر نہیں ڈالتی ہیں اور نہ ہی صارفین کی سطح پر قیمتوں میں کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران ڈسکوز کی ناکامی کے باعث مالی سال 2023-24 کے مقابلے میں 193 بلین روپے کم ہوئیں۔ اسی طرح جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران ناکامیوں میں کمی کے باعث جولائی تا دسمبر 2024 کے مقابلے میں مزید 49 بلین روپے کی کمی واقع ہوئی۔

یہ اصلاحات پاور سیکٹر میں آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے حکومت کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔مزید برآں یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ 1,225 بلین روپے کے گردشی قرضہ سیٹلمنٹ پلان پر چھ سال کی مدت میں عملدرآمد کیا جائے گا جس کے تحت موجودہ گردشی قرضے کو سازگار شرائط پر ری فنانس کیا جائے گا۔ اب تک اس منصوبے کی پہلی قسط موصول ہو چکی ہے، جبکہ آئندہ چھ سالوں میں گردشی قرضے کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا اور ڈیٹ سروس سرچارج بھی ختم کر دیا جائے گا۔