اسلام آباد ۔ 7 جنوری (اے پی پی) نیب کی بلاامتیاز کارروائیوں کے باعث 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں، نیب خود احتسابی، شفافیت اور قانون کے مطابق میرٹ پر عمل پیرا ہے، نیب کے دروازے کرپشن سے متعلق شکایات کیلئے کھلے ہیں، چیئرمین نیب نے ہر ماہ کی آخری جمعرات کو نہ صرف ذاتی طور پر عوامی شکایات سنی ہیں بلکہ قانون کے مطابق 2500 شکایات کو …
گزشتہ سال 44315 شکایات موصول ہوئیں، بلاامتیاز کارروائیوں کے باعث 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں، قومی احتساب بیورو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 7 جنوری (اے پی پی) نیب کی بلاامتیاز کارروائیوں کے باعث 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں، نیب خود احتسابی، شفافیت اور قانون کے مطابق میرٹ پر عمل پیرا ہے، نیب کے دروازے کرپشن سے متعلق شکایات کیلئے کھلے ہیں، چیئرمین نیب نے ہر ماہ کی آخری جمعرات کو نہ صرف ذاتی طور پر عوامی شکایات سنی ہیں بلکہ قانون کے مطابق 2500 شکایات کو نمٹایا بھی ہے۔ قومی احتساب بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق نیب کو 2018ءکے دوران 44315 شکایات موصول ہوئیں جو کہ گذشتہ سال کے مقابلہ میں دوگنا ہیں، نیب کو چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی قیادت میں مو¿ثر انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے تحت احتساب سب کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے فعال ادارہ بنایا گیا ہے، پلڈاٹ، مشال پاکستان، گیلپ اور گیلانی سروے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر عالمی اور قومی اداروں نے نیب کی کارکردگی کی تعریف کی ہے ، قانون کے مطابق شکایات سکروٹنی کمیٹی نے شواہد کی بنیاد پر ان شکایات کا جائزہ لیا ہے، 1713 شکایات کو جانچ پڑتال کیلئے منتخب کیا گیا ہے، شکایات کی جانچ پڑتال کے بعد 877 کو انکوائریوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ شکایات کنندگان اور ملزموں کے بیانات لینے کے بعد 227 کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کیا گیا ہے جبکہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 440 ریفرنس دائر کئے گئے ہیں جو کہ نیب کی گذشتہ پانچ سال کے مقابلہ میں شاندار کارکردگی ہے۔ نیب نے گذشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف 503 ملزموں کو گرفتار کیا ہے بلکہ بدعنوان عناصر سے 2580 ملین روپے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں اور انہوں نے اس میں سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا۔ نیب کی جانب سے وصول کی گئی یہ رقم سینکڑوں متاثرین اور متعدد سرکاری اداروں کو واپس کی گئی ہے۔ گذشتہ سال کے دوران نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے 20 اجلاس ہوئے ہیں جس میں متعدد شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انویسٹی گیشن اور احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ نیب کے تقریباً 900 ارب روپے 1210 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ نیب سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیب نے چین کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں، اس سے سی پیک کے تناظر میں معاہدوں میں اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔ نیب راولپنڈی نے پہلی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے۔ نیب نے شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدالت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کےلئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ نیب واحد ادارہ ہے جس کے مقدمات میں سزا کی شرح 70 فیصد ہے، یہ کامیابی چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے انسداد بدعنوانی کی مو¿ثر حکمت عملی اور بلاامتیاز احتساب کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔ نیب واحد ادارہ ہے جس نے ملک بھر کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طالب علموں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے 50 ہزار سے زائد کردار سازی کی انجمنیں قائم کی ہیں۔ نیب کے بلاامتیاز اقدامات کے باعث بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے۔ نیب چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی قیادت میں ملک کو کرپشن فری بنانے اور قوم کی امنگوں پر پورا اترنے کیلئے تیار ہے۔ چیئرمین نیب کسی کو انتقام کا نشانہ بنانے پر یقین نہیں رکھتے، نیب کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ نیب افسران ریاست کی خدمت کرتے ہیں، ان کا صرف اور صرف ریاست پاکستان سے تعلق ہے، نیب افسران کی سخت محنت باعث معاشرہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے چیئرمین نیب کی ولولہ انگیز قیادت میں نیب کی موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ چیئرمین نیب تمام بدعنوان عناصر سے ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہیں۔








