گزشتہ ماہ ملکی برآمدات میں مئی کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا، ملکی برآمدات کا حجم 1.6 ارب ڈالرریکارڈکیا گیا ،جون میں ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں، اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) مالی سال 2020ءکے آخری مہینہ میں ملک کے اقتصادی اشاریوں میں بہتری ریکارڈکی گئی ہے، جولائی کے مہینہ میں ملکی برآمدات میں وسعت آنے اور برآمدات کا ماہانہ حجم 2 سے لیکر2.1 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے، مشکل بین الاقوامی حالات کے باوجود بیرونی شعبہ مستحکم ہے،کورونا وائرس کی عالمگیروباءکے باوجود حسابات جاریہ کاخسارہ بدستورکم رہے گا ،درآمدات اوربرآمدات میں …

اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) مالی سال 2020ءکے آخری مہینہ میں ملک کے اقتصادی اشاریوں میں بہتری ریکارڈکی گئی ہے، جولائی کے مہینہ میں ملکی برآمدات میں وسعت آنے اور برآمدات کا ماہانہ حجم 2 سے لیکر2.1 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے، مشکل بین الاقوامی حالات کے باوجود بیرونی شعبہ مستحکم ہے،کورونا وائرس کی عالمگیروباءکے باوجود حسابات جاریہ کاخسارہ بدستورکم رہے گا ،درآمدات اوربرآمدات میں کوروناوائرس کی وباءکے باوجود مالی سال 2019-20ءمیں حسابات جاریہ کے خسارہ میں 77.9 فیصد کمی ہوئی ۔ وزارت خزا نہ کی طرف سے جاری اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق جون میں ملکی برآمدات میں مئی کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا۔ جون 2020ءمیں ملکی برآمدات کا حجم 1.6 ارب ڈالرریکارڈکیا گیا مئی میں ملکی برآمدات کا حجم 1.3 ارب ڈالررہاتھا۔جون 2020ءمیں ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں، جون میں ترسیلات زرمیں گزشتہ سال کے اسی مدت کے مقابلے میں 51 فیصد اورمئی 2020ءکے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں مئی 2020ءکے مقابلے میں 46 فیصداضافہ ہوا ۔ گزشتہ مالی سال کے آخری مہینہ میں حکومت کی طرف مقررکردہ معیاری طریقہ کارکے تحت کئی کاروبارشروع ہوئے جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ۔ریستورانوں اورتعلیمی اداروں میں سرگیوں کا آغازجلد متوقع ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی بہتری آرہی ہے، سرمایہ کاروں کیلئے حکومت کے مراعاتی پیکج کے نتیجہ میں کے ایس ای 100 انڈکس میں 25 مارچ کے بعد سے لیکر20 جولائی تک 10422 پوائنٹس یا 38.5 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی مد میں 1737 ارب روپے موصول ہوئے اوراس میں اضاہ کی شرح 32.3 فیصد رہی۔ اپ ڈیٹ کے مطابق مالی سال 2020ءمیں ایف بی آر کی ٹیکس محصولات میں 4 فیصد اضافہ ہوا،عبوری اعدادوشمارکے مطابق گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر کے ٹیکس محصولات کا حجم 3.98 ٹریلین روپے رہا ،مالی سال 2019ءمیں ایف بی آر کی ٹیکس محصولات کا حجم 3.83 ٹریلین روپے رہا تھا،مئی کے مقابلہ میں جون میں ایف بی آر کی ٹیکس محصولات میں 100 فیصداضافہ ہوا،جون 2020ءمیں ایف بی آر نے محصولات کی مد میں 448.7 ارب روپے اکھٹے کئے ،مئی 2020ءمیں ایف بی آر کی ٹیکس محصولات کا حجم 223.9 ارب روپے تھا۔جولائی 2020ءکے پہلے ہفتہ میں 2.29 فیصد اضافہ ہوا،اس کے اگلے ہفتہ میں اس میں 0.98 فیصد کی کمی اوربعدمیں 0.01 فیصد کمی ہوئی۔ حکومت کی طرف سے مقررکردہ حرکیات کے نتیجہ میں جولائی میں قیمتوں کاحساس اشاریہ 7.6 اور9.3 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔اپ ڈیٹ کے مطابق وباءکی وجہ سے اپریل اورمئی میں برآمدات میں کمی ہوئی تاہم بعد میں اس میں بتدریج اضافہ ہوا، مالی سال 2020-21ءکیلئے برآمدات کاحجم 22.7 ارب ڈالرمقررکیا گیاہے جوفی ماہ 1.9 ارب ڈالربنتاہے۔توقع ہے کہ جولائی کے مہینہ میں ملکی برآمدات میں وسعت آئیگی اور برآمدات کا ماہانہ حجم 2 سے لیکر2.1 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے ۔ مالی سال 2020-21ءکیلئے درآمدات کا ہدف 42.4 ارب ڈالرمقررکیاگیاہے جوماہانہ 3.5 ارب ڈالر بنتاہے امید ہے کہ جون اورجولائی میں درآمدات کی بحالی ہوگی اوراس کی ماہانہ وسیع مارجن 3.5 سے لیکر4 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے۔ اپ ڈیٹ کے مطابق جون 2020ءمیں ترسیلات زرمیں اضافہ کی شرح جون 2019ءکے مقابلے میں 51فیصد رہی،مالی سال 2020ءمیں ترسیلات زرکاحجم 23.1 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا مالی سال 2020-21ءکیلئے ترسیلات زرکا حجم 21.5 ارب ڈالرمقررکیاگیاہے جس کاماہانہ اوسط 1.8 ارب ڈالربنتاہے،عیدالاضحیٰ کی وجہ سے جولائی کے مہینہ میں سمندرپارمقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زرکاحجم 1.8 ارب ڈالرسے 2 ارب ڈالر تک رہنے کاامکان ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق اقتصادی اشاریوں کی بنیادپرملک کی حسابات جاریہ کاخسارہ گزشتہ مالی سال کی سطح پررہنے کا امکان ہے تاہم براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اورمالیاتی معاونت سے زرمبادلہ کے ذخائرپردباﺅ نہیں ہوگاجس کی وجہ سے آنیوالے مہینہ میں ایکسچینج ریٹ مستحکم رہنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ کے اعدادوشمارکے مطابق مشکل بین الاقوامی حالات کے باوجود بیرونی شعبہ مستحکم ہے،کورونا وائرس کی عالمگیروباءکے باوجود حسابات جاریہ کاخسارہ بدستورکم رہے گا ۔درآمدات اوربرآمدات میں کوروناوائرس کی وباءکے باوجود مالی سال 2019-20ءمیں حسابات جاریہ کے خسارہ میں 77.9 فیصد کمی ہوئی اورحسابات جاریہ کے خسارہ کا حجم 2.9 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال 13.4 فیصد تھا۔

مزید خبریں