گندم خریداری پالیسی 2025-26: حکومت کا فیصلہ کسانوں کے لیے ریلیف کا پیغام ہے، پاکستان بزنس فورم

اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم نے حالیہ حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے کسانوں سے نئی فصل کے لیے گندم خریدنے کا اعلان ایک خوش آئند قدم ہے جو نہ صرف زرعی شعبے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ کسانوں کو بروقت مالی ریلیف بھی فراہم کرے گا۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے میڈیا سے گفتگو …

اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):پاکستان بزنس فورم نے حالیہ حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے کسانوں سے نئی فصل کے لیے گندم خریدنے کا اعلان ایک خوش آئند قدم ہے جو نہ صرف زرعی شعبے کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ کسانوں کو بروقت مالی ریلیف بھی فراہم کرے گا۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گندم پالیسی 2025-26 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے 6.2 ملین ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث زرعی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے اور مجموعی طور پر 430 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ایسے میں یہ پالیسی کسانوں کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے، جس سے انہیں نئے سیزن کے آغاز سے قبل اپنے مالی معاملات بہتر طریقے سے منظم کرنے میں مدد ملے گی۔

چوہدری احمد جواد نے کہا کہ پاکستان بزنس فورم کا مطالبہ ہے کہ گندم کی کاشت کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک جامع سپورٹ پیکج دیا جائے۔

اس پیکج میں دو بوری یوریا اور ایک بوری ڈی اے پی کھاد شامل کی جائے، جسے وفاق اور صوبے مل کر کسانوں کو فراہم کریں تاکہ ان کے اخراجات میں کمی آئے اور وہ بروقت کاشت کا عمل مکمل کر سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اس وقت کاشتکار شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔

اگر حکومت گندم کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے زرعی شعبے پر مرتب ہوں گے اور کسانوں کی سال بھر کی مالی سرگرمیاں بھی بحال ہو سکیں گی، کیونکہ دیہی معیشت کی بنیاد گندم کی فصل پر ہی قائم ہے۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ گندم خریداری 2025-26 کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط اور نگرانی پر مبنی نظام وضع کیا جائے تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور تمام عمل بدعنوانی سے پاک ہو۔ پاکستان بزنس فورم نے حکومت کے اس فیصلے کو ملکی زرعی ترقی کی سمت ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر دیانتداری سے عمل درآمد کیا گیا تو اس کے دور رس مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔