سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا اور اس میں موجود غلطیوں کی بروقت تصحیح کرنا ٹرائل کورٹ کی قانونی ذمہ داری ہےکیونکہ منصفانہ ٹرائل اور شفاف عدالتی کارروائی کا تقاضا یہی ہے۔
گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا ٹرائل کورٹ کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا اور اس میں موجود غلطیوں کی بروقت تصحیح کرنا ٹرائل کورٹ کی قانونی ذمہ داری ہےکیونکہ منصفانہ ٹرائل اور شفاف عدالتی کارروائی کا تقاضا یہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ طریقہ کار انصاف کے حصول کا ذریعہ ہے، انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں، اور اس کا مقصد انسانی تکلیف کو آواز دینا ہے، اسے خاموش کرنا نہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مسماۃ نایاب کی جانب سے دائر فوجداری درخواستوں پر مختصر فیصلے کی وجوہات جاری کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد اور ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمہ ایف آئی آر نمبر 33/2018، تھانہ ضلع جیکب آباد میں زیر سماعت ہے جس میں درخواست گزار استغاثہ کی گواہ ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا تاہم مصدقہ نقل حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ تحریری بیان میں متعدد غلطیاں اور تضادات موجود ہیں جن میں واقعے کی تاریخ 31 مئی 2018ء کے بجائے غلطی سے 30 مئی 2018ء درج کر دی گئی تھی جبکہ جرح کے حصے سمیت دیگر مقامات پر بھی بے ضابطگیاں موجود تھیں۔درخواست گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 360 کے تحت ٹرائل کورٹ سے بیان کی تصحیح کی درخواست کی تاہم وہ مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے بھی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ سے گواہ کے بیان کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی اور فریقین کے وکلاء اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ کی موجودگی میں اس کا جائزہ لیا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ویڈیو میں گواہ نے واقعے کی تاریخ 31 مئی 2018ء بتائی تھی، مگر تحریری بیان میں اسے غلطی سے 30 مئی 2018ء لکھا گیا۔ عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ بیان میں دیگر مادی غلطیاں اور تضادات بھی موجود ہیں جنہیں جواب دہندہ کے وکیل نے بھی تسلیم کیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 360(1) کے تحت گواہ کا بیان مکمل ہونے کے بعد اسے پڑھ کر سنانا اور ضرورت پڑنے پر اس کی تصحیح کرنا لازمی ہے جبکہ دفعہ 360(2) گواہ کو یہ حق دیتی ہے کہ اگر اس کا بیان درست طور پر قلم بند نہ کیا گیا ہو تو وہ اعتراض اٹھا سکے جس پر عدالت اعتراض کا میمورنڈم ریکارڈ کرنے اور اپنی رائے درج کرنے کی پابند ہے۔عدالت نے کہا کہ یہ قانونی طریقہ کار شفاف ٹرائل، درست شہادت اور آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ اپنے قانونی اختیارات استعمال نہ کرے تو گواہ کے بیان کی شہادتی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے جس سے مقدمے کے میرٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات کے تحت اپنے اختیارات استعمال نہیں کیے جو قانون کے منافی تھا۔عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ گواہ کے ویڈیو بیان اور تحریری بیان کا ملزمان، فریقین کے وکلاء اور پراسیکیوٹر کی موجودگی میں دوبارہ موازنہ کرے۔ اگر کسی قسم کا تضاد، غلطی یا کمی سامنے آئے تو دفعہ 360(2) کے مطابق درست بیان پر مبنی میمورنڈم تیار کرکے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ یہ کارروائی مصدقہ فیصلے کی وصولی کے پندرہ ورکنگ دنوں میں مکمل کی جائے جبکہ اس کے بعد فریقین کو دوبارہ دلائل کا موقع دے کر مقدمے کا فیصلہ مزید تیس ورکنگ دنوں کے اندر قانون کے مطابق کیا جائے۔








