اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت پیر کو ریگولیٹری ریفارمز کی ذیلی کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سکاٹ جیکبز، بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی)، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) )اور سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نمائندے شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران کمپنیز ایکٹ 2017 میں ترامیم کی تجاویز پیش کی گئیں۔ ایس ای سی پی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ نے مشترکہ طور پر ایک جامع پیکج پیش کیا جس کا مقصد اس ایکٹ کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
تجویز کردہ ترامیم میں نجی اور عوامی کمپنیوں کے اراکین کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد ختم کرنے، کارپوریٹ فارمز میں زیادہ لچک پیدا کرنے اور غیر ضروری پابندیاں ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ہارون اختر خان نے زور دیا کہ متفقہ سفارشات کا مسودہ جلد از جلد تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ قوانین، طریقہ کار میں تاخیر اور کاروبار میں آسانی کی راہ میں رکاوٹیں پاکستان میں کاروباری اداروں کیلئے سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ایکٹ کی کئی شقیں ایسی رکاوٹیں اور حدود پیدا کرتی ہیں جو جدید کارپوریٹ ڈھانچوں میں جدت کے عمل میں حائل ہوتی ہیں۔