اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی)وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہاﺅسنگ منصوبے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، ملازمتوں کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، غریب اور کم آمدن افراد کو چھت میسرآئے گی، تعمیراتی شعبے میں 400 ارب روپے کے پراجیکٹ شروع کرنے جا رہے ہیں، سرمایہ کارو ںکے لئے 31 دسمبر تک اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا بہترین …
ہاﺅسنگ منصوبے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، ملازمتوں کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، غریب اور کم آمدن افراد کو چھت میسرآئے گی، وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فرازکی معاون خصوصی برائے احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی)وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہاﺅسنگ منصوبے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، ملازمتوں کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، غریب اور کم آمدن افراد کو چھت میسرآئے گی، تعمیراتی شعبے میں 400 ارب روپے کے پراجیکٹ شروع کرنے جا رہے ہیں، سرمایہ کارو ںکے لئے 31 دسمبر تک اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے، ہاﺅسنگ منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے جامع حکمت عملی کے ذریعے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کورونا کے باعث ہمارے لوگوں کو وہ تکالیف نہیں دیکھنی پڑیں جو دیگر ممالک کو دیکھنا پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے قبل معاشی صورتحال بہتر تھی تاہم کورونا وبا کے باعث معیشت پر اثرات پڑے۔ عوام کی فلاح و بہبود اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وبا کے دوران حکومت عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے پرعزم رہی۔ انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں کا مقصد تمام شعبوں میں روابط کو مضبوط کرنا ہے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک کے ممتاز سرمایہ داروں عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، حسن بخشی اور محسن سبحانی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں سٹیٹ بینک سمیت تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ہاﺅسنگ منصوبے کے تناظر میں ٹیکس سمیت دیگر امور پر مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ معیشت کے اثرات درمیانے طبقے یا غریب لوگوں پر زیادہ پڑتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے اقدامات کا محور معاشی طور پر کمزور اور مڈل طبقہ ہے۔ تمام پالیسیوں میں نادار طبقوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ کی ترقی وقت کی ضرورت ہے۔ اس شعبہ کی ترقی سے دیگر متعلقہ شعبوں کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے غریبوں کو چھت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ ان کی مشکلات کے حل کے لئے ون ونڈو کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ منصوبہ ملک کے غریبوں کے لئے اہم ہے کیونکہ اس سے نہ صرف انہیں چھت ملے گی بلکہ ملازمتوں کے وسیع مواقع بھی پیداہو ںگے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں 400 ارب روپے کے پراجیکٹ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبے ہاﺅسنگ کے شعبہ کو تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف، فٹیف سمیت عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کو کورونا وبا کے باعث جو سہولت ملی ہے اس سے 31 دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاﺅسنگ منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔ یہ ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو رپورٹ دیتی ہے۔ اسی طرح قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس ہفتہ میں دو بار ہوں گے تاکہ اس شعبے کو درپیش مشکلات کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نقشوں سمیت تمام امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ تعمیراتی شعبے سے منسلک افراد کو قرضے دینے کا طریقہ کار بھی زیر بحث آیا۔ ہاﺅسنگ منصوبے کے حوالے سے واضح حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ تمام امور کو مکمل کرنے میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ پانچ مرلہ کے گھر کے لئے قرضہ 5 فیصد شر ح منافع پراور 10 مرلہ گھر کے لئے 10 فیصد شرح منافع پر قرضہ دیاجائے گا جبکہ حکومت مجموعی لاگت پر 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام بینک نجی شعبہ میں سرمایہ کاری کا 5 فیصد تعمیرات کے شعبہ کے لئے مختص کریں گے جو سالانہ 330 ارب روپے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو غریب آدمی گھر نہیں خرید سکتا وہ اس منصوبے سے گھر کا مالک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعمیراتی شعبہ کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ سی ڈی اے کے پلاٹوں کی بولی توقع سے زیادہ لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے اس منصوبے پر پیشرفت کی رپورٹ لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی سے معیشت بحال ہوگی۔








