سعودی عرب کے حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر سکیورٹی کی مزید 14 ہزار 434 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں اور 12 ہزار 363 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیج دیا۔
ہفتے کے دوران 12 ہزار 363 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا، سعودی وزارت داخلہ

مزید خبریں
ریاض۔6ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کے حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر سکیورٹی کی مزید 14 ہزار 434 خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں اور 12 ہزار 363 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیج دیا۔
اردو نیوازکے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بیان میں بتایا ہے کہ 27 اگست سے 2 ستمبر کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار121 اقامہ قانون، 3 ہزار 636 بارڈر سکیورٹی اور 3 ہزار 408 لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں،غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 315 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 58 فیصد ایتھوپین، 41 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مزید 42 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 21 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا اسے 15 سال قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطگی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مکہ مکرمہ اور ریاض میں ٹول فری نمبر 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سزائیں مقرر ہیں۔







