پاکستان کی معاشی ترقی کی حکمت عملی میں نجی شعبے کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی ،راجہ پرویز اشرف

سابق وزیراعظم اور ممتاز سیاسی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی حکمت عملی میں نجی شعبے کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی کیونکہ کوئی بھی حکومت ملک کی پوری آبادی کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی، کاروباری افراد کو سرمایہ کاری بڑھانے، کاروبار وسعت دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے کیونکہ ایک کاروبار کی ترقی …

اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):سابق وزیراعظم اور ممتاز سیاسی رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی حکمت عملی میں نجی شعبے کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی کیونکہ کوئی بھی حکومت ملک کی پوری آبادی کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی، کاروباری افراد کو سرمایہ کاری بڑھانے، کاروبار وسعت دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے کیونکہ ایک کاروبار کی ترقی کے اثرات ملازمین، خاندانوں، حکومتی محصولات اور مجموعی معیشت تک پہنچتے ہیں۔اتوار کو یہاں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (آئی سی سی آئی)میں انٹرایکٹو سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت کا بنیادی کردار ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہے جہاں کاروباری افراد غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر کاروبار کر سکیں، سرمایہ کاری کریں اور اپنے کاروبار کو وسعت دیں۔

انہوں نے چیمبرز آف کامرس کو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان ایک اہم پل قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانے، ملکی و بین الاقوامی تجارت کے فروغ اور کاروباری مسائل کے حل کے لیے بزنس کمیونٹی سے مؤثر مشاورت ناگزیر ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اسلام آباد کی نمائندگی اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل تجاویز تیار کی جانی چاہئیں۔انہوں نے پانی، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور دیہی علاقوں کی ترقی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ضروری قرار دیا۔ راجہ پرویز اشرف نے یقین دلایا کہ اگر اسلام آباد کے لیے کوئی قابلِ عمل اور ٹھوس تجویز سامنے آتی ہے تو وہ اسے متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گے۔

فائر سیفٹی کے نام پر کمرشل املاک اور کاروبار سیل کرنے کے معاملے پر راجہ پرویز اشرف نے متوازن اور مرحلہ وار طریقہ اختیار کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تاہم حفاظتی خامیوں کو دور کرنے کے لیے پہلے نشاندہی، سیفٹی آڈٹ، نوٹس اور مناسب مہلت دی جانی چاہیے جس کے بعد دوبارہ معائنہ کیا جائے اور مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلاامتیاز کاروبار سیل کرنے سے کاروباری سرگرمیاں، روزگار اور سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، اس لیے مسئلے کا حل کاروبار بند کرنا نہیں بلکہ کاروبار کو محفوظ بنانا ہونا چاہیے۔ قبل ازیں صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے راجہ پرویز اشرف کا چیمبر آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد کی بزنس کمیونٹی کے دیرینہ ساتھی ہیں اور چیمبر کے ابتدائی دور میں بھی ان کا تعلق اور کردار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے راجہ پرویز اشرف کا تجربہ اور سیاسی اثر و رسوخ انہیں اسلام آباد کے شہریوں اور کاروباری برادری کے مسائل قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر آواز بناتا ہے۔ انہوں نے فائر سیفٹی کے حوالے سے بھی آئی سی سی آئی کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے مگر کاروبار کو بلاوجہ بند کرنے کے بجائے مرحلہ وار اصلاح اور قانون پر عملدرآمد کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ راجہ پرویز اشرف کی حمایت سے چیمبر کی تجاویز کو عملی شکل دینے اور اسلام آباد کو زیادہ بااختیار، خوشحال اور کاروبار دوست شہر بنانے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ اس موقع پر آئی سی سی آئی کے سابق صدر محمد اعجاز عباسی، میاں شوکت مسعود، ایگزیکٹو ممبر ذوالقرنین عباسی، سینئر ممبران بابر بھٹی، نعمان بھٹی، ابرار بھٹی، راجہ جمیل، شہریار بٹ، کاروباری و رئیل اسٹیٹ برادری کے نمائندگان اور دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

 

مزید خبریں