پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینی عوام کی بے دخلی سے متعلق دیئے گئے بیانات بالخصوص فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کے منصوبوں اور طریقۂ کار سے متعلق تجاویز کی سخت …
پاکستان سمیت اہم مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ کی اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر کی غزہ کی پٹی سے فلسطینی عوام کی بے دخلی سے متعلق بیانات کی مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینی عوام کی بے دخلی سے متعلق دیئے گئے بیانات بالخصوص فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کے منصوبوں اور طریقۂ کار سے متعلق تجاویز کی سخت مذمت کی ہے۔
اتوار کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات اور تجاویز بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کو کسی بھی بہانے یا جواز کے تحت مقبوضہ فلسطینی سرزمین کے اندر یا باہر بے دخل کرنے کی تمام کوششوں اور منصوبوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جبری بے دخلی کے مطالبات کو باقاعدہ پالیسی یا فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات امن کے حصول کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازعے کے خاتمے کے جامع منصوبے کے لیے براہِ راست چیلنج ہیں جس میں جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔ ایسے اقدامات خطے میں استحکام کے امکانات کو شدید نقصان پہنچانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ غزہ کی پٹی مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا ایک ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے بشمول مشرقی بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی سرزمین کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد ہے جس کے تحت 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو اور یہ اقدام بین الاقوامی قانونی حیثیت کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں نئی آبادیاتی یا جغرافیائی حقیقت مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا مضبوطی سے مقابلہ کرے جبکہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور قواعد کا احترام یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین پر ثابت قدمی کے لیے اپنی مکمل اور مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی مسئلے کو ختم کرنے یا فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو کمزور کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کر دیا۔







