سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے اصولی موقف کی جیت ہے، مخدوم سید احمد محمود

سابق گورنر پنجاب و پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے آبی حقوق، قانونی موقف اور سفارتی کوششوں کی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ اتوار کو ’’اے پی پی ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ فیصلے سے بین الاقوامی …

لاہور۔6ستمبر (اے پی پی):سابق گورنر پنجاب و پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے آبی حقوق، قانونی موقف اور سفارتی کوششوں کی اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ اتوار کو ’’اے پی پی ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ فیصلے سے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، عالمی قانون کی بالادستی اور ریاستوں کے درمیان طے شدہ معاہدوں کے احترام کے اصول کو مزید تقویت ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے نے اس اصول کی توثیق کی ہے کہ کسی بین الاقوامی معاہدے کو ایک فریق اپنی خواہش کے مطابق یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر موثر نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی معاملات سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی طے شدہ شرائط کے مطابق پاسداری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر ہمیشہ قانونی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے اور اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی فورمز پر اپنا موقف موثر انداز میں پیش کیا ہے۔

عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اسی اصولی موقف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں اور ان کے تحت حاصل حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے محض ایک دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ملکی آبی سلامتی، زرعی معیشت اور غذائی تحفظ سے براہ راست وابستہ معاملہ ہے۔ پاکستان کی زرعی پیداوار اور لاکھوں افراد کا روزگار پانی کی دستیابی سے منسلک ہے، اس لیے آبی وسائل اور جائز حصے کا تحفظ ملکی معیشت اور مستقبل کی ضروریات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں پاکستان کو آبی وسائل کے تحفظ کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے پانی کے ذخائر میں اضافہ، جدید آبپاشی نظام کا فروغ، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور دستیاب وسائل کے موثر استعمال پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری خطے میں پائیدار امن، باہمی اعتماد اور تعاون کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ دوطرفہ تنازعات کو طاقت یا یکطرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات اور قانون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اسی اصول کے تحت سندھ طاس معاہدے سے متعلق معاملات کو بھی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔سابق گورنر پنجاب نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم قانونی سنگ میل ہے اور اس سے ملک کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع بروئے کار لاتا رہے گا۔

مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ پانی پاکستان کی معیشت، زراعت اور مستقبل کی ترقی کے لیے بنیادی قومی وسیلہ ہے، اس لیے آبی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر پانی کے بہتر انتظام اور موثر استعمال کو بھی قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔

مزید خبریں