وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں دفاعِ وطن کا تصور محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہا، مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، باصلاحیت انسانی سرمایہ، توانائی و آبی تحفظ، مؤثر ادارے اور قومی یکجہتی بھی قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں، پاکستان کو اپنی عسکری قوت کے ساتھ اپنی جامع قومی طاقت کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ ملکی …
شہدا نے سرحدوں پر پاکستان کی خودمختاری کا دفاع کیا، ہمیں معیشت، علم اور ٹیکنالوجی کے محاذوں پر اسے مضبوط بنانا ہے، پروفیسر احسن اقبال

مزید خبریں
نارووال/ اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں دفاعِ وطن کا تصور محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہا، مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، باصلاحیت انسانی سرمایہ، توانائی و آبی تحفظ، مؤثر ادارے اور قومی یکجہتی بھی قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں، پاکستان کو اپنی عسکری قوت کے ساتھ اپنی جامع قومی طاقت کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ ملکی خودمختاری، سلامتی اور ترقی کو پائیدار بنیاد فراہم کی جا سکے۔
اتوار کو نارووال میں یومِ دفاع پاکستان کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے شہدا اور غازیوں کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہدا نے اپنا آج قوم کے کل کے لیے قربان کیا اور ان کے اہلِ خانہ کی قربانیاں بھی پوری قوم پر قرض ہیں۔انہوں نے کہا شہید صرف اپنی جان قربان نہیں کرتا اس کا پورا خاندان وطن کے نام پر قربانی دیتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ 1965ء میں قوم نے اتحاد، عزم اور قربانی کے ذریعے دشمن کے عزائم ناکام بنائے، آج جنگ کے میدان بدل چکے ہیں، اب زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کے ساتھ سائبر دنیا، مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ نظام، خلائی ٹیکنالوجی، برقی جنگ اور اطلاعاتی محاذ بھی قومی دفاع کا حصہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ، خلائی علوم، روبوٹکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے سائنسی شعبوں میں محض صارف نہیں بلکہ ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والا ملک بننا ہوگا، اس مقصد کے لیے جامعات، تحقیقی مراکز، دفاعی اداروں، سائنس دانوں، انجینئروں اور نجی شعبے کو تحقیق و جدت کے ایک مربوط قومی نظام میں جوڑنا ہوگا۔وفاقی وزیر نے معاشی خودمختاری کو قومی سلامتی کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمزور معیشت کے ساتھ مضبوط قومی خودمختاری کو طویل مدت تک برقرار نہیں رکھا جا سکتا، قرضوں پر مسلسل انحصار، کم پیداواری صلاحیت اور محدود برآمدات کسی بھی ملک کی آزادانہ قومی فیصلے کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اگلی بڑی قومی جدوجہد معاشی خودمختاری کی جدوجہد ہے اور اس کا پائیدار راستہ برآمدات کی قیادت میں معاشی ترقی ہے،پاکستان کو قرض اور کھپت پر انحصار کرنے والے پرانے معاشی نمونے سے نکل کر پیداوار، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، جدت اور برآمدات پر مبنی معیشت بنانا ہوگا۔
احسن اقبال نے کہا کہ برآمدات بڑھانا صرف وزارتِ تجارت یا برآمد کنندگان کی ذمہ داری نہیں بلکہ اسے پوری حکومت اور پوری قوم کا مشترکہ مشن بنانا ہوگا جس سنجیدگی اور تسلسل سے مالیاتی اور محصولات کے اہداف کا جائزہ لیا جاتا ہے، اسی طرح برآمدی اہداف کی بھی اعلیٰ ترین سطح پر مسلسل نگرانی ضروری ہے۔انہوں نے کہا جو قوم دنیا کو زیادہ قدر و قیمت کی مصنوعات اور خدمات فروخت کرتی ہے وہ عالمی نظام میں زیادہ معاشی اور تزویراتی اختیار حاصل کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے بڑا قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان آبادی اسی وقت قومی طاقت بن سکتی ہے جب اسے معیاری تعلیم، بہتر صحت، جدید ہنر، تحقیق، ٹیکنالوجی اور آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو سکول پہنچانا، ہر نوجوان کو قابلِ روزگار ہنر دینا اور پاکستان کے بہترین ذہنوں کو تحقیق و جدت کے مواقع فراہم کرنا محض سماجی شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی سلامتی میں سرمایہ کاری ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ مستقبل کے خطرات صرف عسکری نوعیت کے نہیں ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، غذائی عدم تحفظ اور درآمدی توانائی پر انحصار بھی قومی سلامتی کے بڑے چیلنج بن رہے ہیں۔ پاکستان کو پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، غذائی تحفظ اور توانائی میں خود انحصاری کو اپنی طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔وفاقی وزیر نے یومِ دفاع کے موقع پر پاکستان کے لیے سات نکاتی قومی طاقت و استحکام کا لائحہ عمل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی اور تکنیکی برتری کیلئے روایتی اور تزویراتی دفاعی صلاحیت کو مضبوط رکھنے کے ساتھ مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ، خلائی ٹیکنالوجی، بغیر پائلٹ نظام، روبوٹکس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں مقامی صلاحیت پیدا کی جائے، برآمدی ہنگامی پروگرام کی مناسبت سے برآمدات کو قومی معاشی ترجیح بنایا جائے، بڑے شعبوں کے واضح اور قابلِ پیمائش برآمدی اہداف مقرر کیے جائیں اور ان اہداف کی اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
انسانی سرمائے کی قومی ہنگامی حکمتِ عملی کے تحت ہر بچے کو تعلیم، ہر نوجوان کو جدید ہنر اور باصلاحیت نوجوانوں کو سائنس، تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ توانائی، پانی اور غذائی تحفظ کیلئے درآمدی توانائی پر انحصار کم کیا جائے، مقامی اور قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے، پانی کے استعمال کی استعداد بڑھائی جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ پاکستان میں پیداوار کے فروغ کیلئے جن مصنوعات کو پاکستان مسابقتی بنیادوں پر تیار کر سکتا ہے ان کی مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے اور صنعت، زراعت، معدنیات اور ٹیکنالوجی کو عالمی پیداواری اور تجارتی زنجیروں سے جوڑا جائے۔ ادارہ جاتی اور انتظامی اصلاحات کیلئے میرٹ، جواب دہی، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی، پالیسیوں کے تسلسل اور مؤثر عمل درآمد کو ریاستی نظام کا بنیادی معیار بنایا جائے۔ قومی یکجہتی کیلئےسیاسی اختلاف کو قومی تقسیم میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے، جھوٹی اطلاعات اور نفرت انگیزی کا مقابلہ کیا جائے اور پاکستان کے بنیادی دفاعی، معاشی اور ترقیاتی اہداف پر کم از کم قومی اتفاقِ رائے قائم کیا جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ یہ سات نکات کسی ایک وزارت، حکومت یا ادارے کا ایجنڈا نہیں بلکہ پاکستان کا قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قومی ترقی کو انتخابی ادوار سے بالاتر کرنا ہوگا۔ دنیا میں کوئی ملک طویل المدتی پالیسیوں کے تسلسل کے بغیر بڑی معاشی اور تکنیکی طاقت نہیں بن سکا۔ پاکستان کے بنیادی معاشی، دفاعی اور ترقیاتی اہداف پر ایسا قومی اتفاقِ رائے درکار ہے جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود برقرار رہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید دور کی مخلوط جنگ میں جھوٹی خبریں، گمراہ کن اطلاعات، نفرت، سیاسی و سماجی تقسیم اور قومی اداروں پر عدم اعتماد بھی ریاست کو کمزور کرنے کے ہتھیار بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ہم مختلف سیاسی جماعتوں، صوبوں، زبانوں اور نقطہ ہائے نظر سے تعلق رکھ سکتے ہیں لیکن پاکستان ہماری مشترکہ شناخت ہے، سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے مگر قومی تقسیم ہماری اجتماعی طاقت کو کمزور کرتی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ دفاعِ وطن ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے، سپاہی سرحد پر، استاد درس گاہ میں، سائنس دان تجربہ گاہ میں، کسان کھیت میں، صنعت کار کارخانے میں اور برآمد کنندہ عالمی منڈی میں پاکستان کو مضبوط بناتا ہے،قوم کی طاقت اس وقت بنتی ہے جب ہر شہری اپنی جگہ کو قومی مورچہ سمجھ کر اپنا فرض ادا کرے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور ایٹمی قوت ہمارے اہم قومی اثاثے ہیں لیکن اکیسویں صدی میں اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی اہمیت، نوجوان آبادی اور قدرتی وسائل کو پیداواری صلاحیت، علم، ٹیکنالوجی، برآمدات اور معاشی قوت میں کس حد تک تبدیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف صرف بحرانوں سے نکلنا نہیں بلکہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی، علمی اور تکنیکی طاقتوں میں شامل ہونا چاہیے،ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو دنیا میں قرض کے لیے نہیں بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے پہچانا جائے جو ٹیکنالوجی کا صرف خریدار نہیں بلکہ تخلیق کار ہو اور جس کی پہچان صرف جغرافیائی و تزویراتی اہمیت سے نہیں بلکہ علم، جدت، پیداوار اور معاشی قوت سے ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ شہدا کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ جس پاکستان کی آزادی اور سلامتی کے لیے انہوں نے اپنی جانیں قربان کیں اسے مضبوط، خوددار، خوشحال اور متحد پاکستان بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شہدا نے اپنے حصے کا فرض ادا کر دیا، اب تاریخ ہم سے پوچھ رہی ہے کہ ہم اپنے حصے کا پاکستان کیسا چھوڑ کر جائیں گے، ہمیں 6 ستمبر کی روح کو سال کے 365 دن کی قومی محنت میں تبدیل کرنا ہوگا۔ میدانِ جنگ میں فتح کے لیے نظم و ضبط، حکمتِ عملی، جرأت اور اتحاد درکار ہوتے ہیں، میدانِ ترقی میں کامیابی کا نسخہ بھی یہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ شہدا نے سرحدوں پر پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت کی، اب پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ معیشت، علم، ٹیکنالوجی، قومی کردار اور اتحاد کے ذریعے اس خودمختاری کو مزید مضبوط کرے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے، غازیوں کو سلامت رکھے اور پاکستان کو امن، علم، ترقی، خودداری اور خوشحالی کی نئی بلندیوں تک پہنچائے۔







