چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی زیر صدارت لاہور کی جامعات کے وائس چانسلرز کا اجلاس، یو ای ٹی لاہور کی فیکلٹی ٹریننگ اور کنسلٹنسی کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی زیر صدارت لاہور کی جامعات کے وائس چانسلرز کا اجلاس، یو ای ٹی لاہور کی فیکلٹی ٹریننگ اور کنسلٹنسی کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش

مزید خبریں
لاہور۔6ستمبر (اے پی پی):یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی)لاہور نے جامعات کو آئوٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کے موثر نفاذ کے لیے فیکلٹی ٹریننگ اور کنسلٹنسی کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کردی۔ یہ پیشکش گیریزن یونیورسٹی لاہور میں لاہور کی جامعات کے وائس چانسلرز کے اجلاس میں کی گئی، جس کی صدارت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی۔وائس چانسلر یو ای ٹی لاہور ڈاکٹر شاہد منیر نے اجلاس میں پیشکش کی کہ یو ای ٹی لاہور اپنے تجربے اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے لاہور کی دیگر جامعات کے فیکلٹی ممبران کو آئوٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کی امپلی منٹیشن، نصاب کی تشکیل، پروگرام کے تعلیمی نتائج اور اسیسمنٹ کے نظام سے متعلق تربیت فراہم کر سکتی ہے جبکہ جامعات کو آئوٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کے موثر نفاذ کے لیے کنسلٹنسی بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعات کے درمیان تعاون کو محض رسمی روابط تک محدود رکھنے کی بجائے اسے فیکلٹی، طلبا اور علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے عملی اشتراک میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دی کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران لاہور کی جامعات کے طلبا کو ایک دوسرے کی جامعات میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مختلف اداروں کے تعلیمی، تحقیقی اور عملی ماحول سے استفادہ کر سکیں۔وائس چانسلر یو ای ٹی نے لاہور کی جامعات کے اشتراک سے انٹرنیشنل سٹوڈنٹ کنونشن کے انعقاد کی بھی پیشکش کی۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ کنونشن کی سربراہی چیئرمین ایچ ای سی کریں جبکہ یو ای ٹی لاہور اس اہم بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اجلاس کے شرکا کو ہائر ایجوکیشن کمیشن میں کیے جانے والے نئے اور انقلابی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے جامعات کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، معیارِ تعلیم بہتر بنانے اور مصنوعی ذہانت کو تعلیمی نظام کا موثر حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں لاہور کی جامعات کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، طلبا اور فیکلٹی کے لیے مشترکہ مواقع پیدا کرنے، انٹرن شپ اور تربیتی پروگرامز کے فروغ اور اعلی تعلیم کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔







