ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنےوالی قیادت کی اجارہ داری ہے، سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں،ہم حق پر ہیں اور حق ہمیشہ فتح یاب ہوتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی۔29نومبر (اے پی پی):ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاہے کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنےوالی قیادت کی اجارہ داری ہے۔آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے۔ جس ٹریلر میں سات جہاز …

راولپنڈی۔29نومبر (اے پی پی):ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاہے کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنےوالی قیادت کی اجارہ داری ہے۔آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کا یہ بیان کہ ہم نے آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا خود فریبی کی حامل سوچ کا عکاس ہے۔ جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملہ ہو جائے اور ایس۔400کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو ایسے ٹریلر پر مبنی فلم ان کیلئے ہارر فلم بن جائے گی۔ سندور میں ہوئی شکست پر بار بار کے جھوٹے ہندوستانی بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کیلئے ہیں۔

کوئی بھی ملک اگرافغان طالبان رجیم کو فوجی سازو سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ ہی لگے گا- ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانےوالے ایکس اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں۔پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا کے یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ جو سوشل میڈیا پاکستان میں چل رہا ہے درحقیقت اس کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہیں۔ تمام حکومتوں اورسیاسی پارٹیوں کا اتفاق ہےکہ دہشتگردی کا حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے ،اس پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں اسکی کمی نظر آتی ہے۔ ڈی جی نے کہاکہ اس نظام کے تحت ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور امپلی منٹیشن کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ایرانی ڈیزل کی سمگلنگ غیر قانونی سپیکٹرم کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

اس مد میں حاصل ہونے والی رقم دہشتگردی کے فروغ کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ پر آرمی،ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے قبل 20.5 ملین لیٹر ڈیزل کی یومیہ سمگلنگ ہوتی تھی۔ یہ مقدار کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ پر آ چکی ہے۔ ایران سے سمگل ہونے والے ڈیزل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم بی ایل اے اور بی وائی سی کو جاتی ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے باعث بلوچستان کے 27 اضلاع کو پولیس کے دائرہ اختیار میں لایا جا چکا ہے جو کہ بلوچستان کا 86فیصد حصہ ہے۔

بلوچستان میں صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں۔ اس طرح کی یومیہ 140 اورماہانہ 4000 انگیجمنٹ ہو رہی ہیں جس کے بہت دورس نتائج ہیں۔ ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو قابو نہیں کیا جا سکتا۔بیان میں کہا گیاہے کہ 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایاکہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔

رواں سال صوبہ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے۔رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔باررڈر مینجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں۔ پاک افعان بارڈ پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو۔اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے۔

پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں۔ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ،افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔ اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتاہےجو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔ ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہےجس کی سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں۔

اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی سمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہےتو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہےتو انہیں کس نے روکنا ہے؟نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کرے۔افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے۔

وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ ہم نے ان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے۔ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں۔ اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے توپاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں غیر منطقی ہے۔اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم ا ن کو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔

یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟ ‏SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا امریکی فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی ہیں۔افغان رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے ایک خطرہ بن چکا ہے۔ افغانستان میں 2021 کے بعد ریاست اورحکومت کا قیام ہونا تھا جو ممکن نہ ہوسکا۔ طالبان رجیم نے اس وقت نان سٹیٹ ایکٹرپالے ہوئے ہیں جو خطے کےمختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہئے۔

دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا مگر اس پراب تک عمل نہیں ہوا۔افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں۔ ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے۔پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔

خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے۔ہمارے لئے اچھے یا برے دہشتگرد میں کوئی تفریق نہیں ،ہمارے لئے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا۔ ہمیشہ حق باطل پے غالب آتا ہے۔ہم حق پر ہیں اور حق ہمیشہ فتحیا ب ہوتا ہے۔ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے عمل کے تحت 2024 میں 366,704 جبکہ 2025 میں 971,604 افراد کو واپس بھیجا جاچکا ہے۔صرف رواں ماہ یعنی نومبر کے دوران 239,574 افراد کو واپس بھیجا گیا۔

مزید خبریں