ہیمو فیلیا میں مبتلا مریضوں میں خون جمانے والے ذرات کی کمی ہوتی ہے، طبی ماہرین

ہیمو فیلیا میں مبتلا مریضوں میں خون جمانے والے ذرات کی کمی ہوتی ہے، طبی ماہرین

اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):ہیموفیلیا ایک مورثی بیماری ہے جس سے عموماً مرد زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس میں مبتلا مریضوں میں خون جمانے والے ذرات کی کمی ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ہر چار سے پانچ ہزار میں سے ایک بچہ ہیمو فیلیا اے جبکہ دس ہزار تا بیس ہزار میں سے ایک بچہ ہیموفیلیا بی سے متاثر پیدا ہوتا ہے، پاکستان میں اندازاً 15 ہزار سے زیادہ بچے اس مرض سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیمو فیلیا کے شکار افراد کو چوٹ لگنے ، سرجری یا دانتوں کی صفائی اور علاج کے دوران حفاظتی ٹیکوں سے غیر معمولی خون بہنا اور جوڑوں کی تکلیف ، ورم یا چڑچڑا پن اور دماغ میں خون کی کمی کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بیماری کا بروقت اور موثر علاج صاف اور صحت مند خون کا انتقال ہے۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ہیمو فیلیا کا ابھی تک کوئی مستقل علاج دریافت نہیں کیا جاسکا تاہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہیمو فیلیا کے مریضوں کو 48 گھنٹے کے وقفے سے تین بار انجیکشن لگائے جاتے ہیں جس سے بیماری قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکےبہت مہنگے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں مریضوں کو فریش فروزن پلازمہ دیا جاتا ہے۔

ہیموفیلیا کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے اور بیماری پر قابو پانے کےلئے دنیا بھر میں ہر سال 17 اپریل کو ورلڈ ہیمو فیلیا ڈے منایا جاتا ہے جو فرینک شنیبل کی تاریخ پیدائش سے مناسبت رکھتا ہے ۔ واضح رہے کہ فرینک شنیبل ورلڈ فیڈریشن آف ہیموفیلیا کے بانی ہیں ۔ اس دن کے موقع پر ہیموفیلیا کی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کے علاج میں آسانیاں اور سہولتوں میں اضافہ پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ مرض کے شکار افراد کی زندگی کو بہتر اور محفوظ بنایا جاسکے۔