یمن میں حوثی عدالت نے جاسوسی کے الزام میں 17 افراد کو سزائے موت سنا دی

صنعا ۔24نومبر (اے پی پی):یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے کنٹرول والی ایک عدالت نے 17 افراد کو غیر ملکی حکومتوں کے لیے جاسوسی کرنے کا مجرم قرار دیا اور انہیں سزائے موت سنا دی۔ غیر ملکی ایجنسیوں کے مقامی عملے کے خلاف برسوں سے جاری حوثی باغیوں کے کریک ڈاؤن میں یہ تازہ ترین پیش رفت ہے۔ العربیہ کے مطابق حوثیوں کے زیرِ انتظام سبأ نیوز ایجنسی کے …

صنعا ۔24نومبر (اے پی پی):یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے کنٹرول والی ایک عدالت نے 17 افراد کو غیر ملکی حکومتوں کے لیے جاسوسی کرنے کا مجرم قرار دیا اور انہیں سزائے موت سنا دی۔ غیر ملکی ایجنسیوں کے مقامی عملے کے خلاف برسوں سے جاری حوثی باغیوں کے کریک ڈاؤن میں یہ تازہ ترین پیش رفت ہے۔

العربیہ کے مطابق حوثیوں کے زیرِ انتظام سبأ نیوز ایجنسی کے مطابق دارالحکومت صنعاء میں خصوصی فوجداری عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔عدالت نے ایک مرد اور ایک خاتون کو 10 سال قید کی سزا بھی سنائی جبکہ ایک اور مدعا علیہ کو بری کر دیا گیا۔سزا پانے والے بعض مدعا علیہان کے نمائندہ وکیل عبدالباسط غازی نے کہا ہے کہ ہفتہ کے دن ہونے والے فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

مدعا علیہان نے "دشمنوں کو ریاستی رہنماؤں کے درجنوں مقامات اور نقل و حرکت نیز میزائلوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں جس کے باعث متعدد فوجی، سکیورٹی اور سویلین مقامات کے نشانہ بنے اور اس کے نتیجے میں درجنوں افراد کی ہلاکت اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی،” سبأ نے اطلاع دی۔

یاد رہے کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپ نے 2014 میں شروع ہونے والی یمن کی خانہ جنگی کے دوران ہزاروں افراد کو قید کیا ہے جن میں جون میں حراست میں لیے گئے اقوامِ متحدہ کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔گذشتہ دو سالوں کے دوران حوثیوں نے اقوامِ متحدہ کے اور دیگر افراد پر مرکوز کریک ڈاؤن میں درجنوں کو حراست میں لیا ہے جو بین الاقوامی امدادی گروپوں اور غیر ملکی سفارت خانوں کے لیے کام کرتے ہیں۔

گروپ نے بغیر ثبوت کے بار بار الزام لگایا کہ وہ جاسوس تھے۔ اقوامِ متحدہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔حوثیوں نے 2023 کے آخر میں غزہ جنگ پر فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل پر اور بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے تھے۔

امریکا اور اسرائیل نے جواب میں ان کے خلاف فضائی اور بحری مہم شروع کی تھی۔ ایسے ہی ایک اسرائیلی حملے میں اس سال کے شروع میں حوثی حکومت کے وزیرِ اعظم اور ان کی کابینہ کے بیشتر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔