یمن میں ستمبر سے جاری کشیدگی کے باعث تقریباً 79 ہزار بچے بے گھر ہو گئے ، اقوام متحدہ
یمن میں ستمبر سے جاری کشیدگی کے باعث تقریباً 79 ہزار بچے بے گھر ہو گئے ، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔3اکتوبر (اے پی پی):یونیسف نے اعلان کیا ہے کہ مغربی یمن میں ستمبر سے جاری کشیدگی کے باعث تقریباً 79 ہزار بچے بے گھر ہو گئے ہیں۔العربیہ کے مطابق یونیسف (اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال) نے ایکس پر شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا کہ پورے مغربی یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی اور بدلتے ہوئے محاذوں نے پہلے ہی سنگین انسانی بحران میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ادارے نے نشاندہی کی ہے کہ تعز، الحدیدہ، مغربی ساحل اور آس پاس کے علاقوں میں لڑائی سے خاندان اپنے گھر، سامان اور روزگار کے ذرائع پیچھے چھوڑ کر دوبارہ نقلِ مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا کہ تین سے 28 ستمبر کے درمیان ایک لاکھ 45 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے جن میں اندازاً 79 ہزار بچے شامل تھے۔یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ کشیدگی میں یہ حالیہ اضافہ ایک ایسے ملک میں انتہائی مشکل انسانی حالات کے دوران ہوا ہے جہاں انسانی ضروریات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ادارے نے مشاہدہ کیا کہ یمن میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ تنازعے کے باعث صحت اور تعلیم کی خدمات کے ساتھ ساتھ صاف پانی تک رسائی بھی متأثر ہوئی ہے۔رپورٹ میں تعز گورنری، مغربی یمن میں بے گھر افراد کی انسانی صورتِ حال کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے کہ "خاندان پُرہجوم کیمپوں میں رہ رہے ہیں جہاں صاف پانی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔
یہاں پہنچنے والے کئی لوگوں کے پاس تن پر موجود کپڑوں کے سوا کچھ نہیں۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا، چونکہ تنازعے سے مغربی یمن میں خاندانوں کے بے گھر ہونے کا سلسلہ جاری ہے تو انسانی امداد ان بچوں اور افرادِ خاندان کے لیے زندگی کی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے جو پہلے ہی برسوں سے نقلِ مکانی، تعلیم اور صحت کی خدمات میں خلل اور ذرائع آمدن کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ستمبر کے اوائل سے مغربی یمن کے کئی علاقوں میں حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور بڑی تعداد میں شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔ یہ سب ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو پہلے ہی دنیا کے ایک بدترین انسانی اور معاشی بحران کی زد میں ہے۔








