باکو میں ’’زبانوں کے مابین پل‘‘ کے عنوان سے ادبی تقریب کا انعقاد، پاکستانی اور آذربائیجانی ادب کے تراجم پیش

باکو میں ’’زبانوں کے مابین پل‘‘ کے عنوان سے ادبی تقریب کا انعقاد، پاکستانی اور آذربائیجانی ادب کے تراجم پیش

باکو۔3اکتوبر (اے پی پی):سفارتخانہ پاکستان باکو کے زیرِ اہتمام، آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز کے پاکستانی زبان و ثقافت مرکز کے تعاون سے ’’زبانوں کے مابین پل: آذربائیجانی–اردو ادبی تراجم کی رونمائی‘” کے عنوان سے ایک خصوصی ادبی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں پاکستانی موٹیویشنل اسپیکر اور مصنف قاسم علی شاہ کی معروف کتاب ’”منزل کی طرف” کے آذربائیجانی ترجمےجبکہ آذربائیجانی ماہرِ تعلیم، دانشور اور آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز کے ریکٹر پروفیسر کمال عبداللہ کی معروف تصنیف "وادیِ طلسم”کے اردو ترجمے کی رونمائی کی گئی۔

پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ تراجم پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بڑھتے ہوئے ادبی، علمی اور ثقافتی روابط اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔تقریب کا افتتاح پاکستان کی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کیا۔

اس موقع پر آذربائیجان کی پارلیمنٹ (ملی مجلس) کی اراکین تمّام جعفرووا اور رضوان نبی یوف نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی و ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

تقریب کے دوران ورجینیا مورگن حیات کی جانب سے پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات، قدرتی حسن اور دلکش مناظر پر مشتمل ایک خصوصی فوٹوگرافی نمائش بھی پیش کی گئی۔ ورجینیا نے پاکستان میں اپنے تجربات اور تاثرات بھی شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔اس موقع پر پاکستان کے ثقافتی تنوع اور خوبصورتی کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم ’’سلام پاکستان‘‘ بھی پیش کی گئی، جسے شرکاء نے بھرپور دلچسپی سے دیکھا۔تقریب کے شرکاء کو پاکستانی ثقافت کا ایک اور خوبصورت رنگ پاکستانی کھانوں اور روایتی مٹھائیوں کی صورت میں دیکھنے کو ملا جن سے مہمانوں نے لطف اٹھایا۔

تقریب میں آذربائیجان کی پارلیمنٹ کے ارکان، ماہرینِ تعلیم، دانشوروں، ادیبوں، طلبہ، میڈیا نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا کہ ادبی اور ثقافتی تبادلے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی افہام و تفہیم اور عوامی سطح پر مضبوط روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے ادب کے تراجم ایک دوسرے کی زبان، ثقافت اور فکری ورثے کو سمجھنے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔