گوگل نے خلا میں اے آئی چپس کی کارکردگی جانچنے کے لیے سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا

گوگل نے خلا میں اے آئی چپس کی کارکردگی جانچنے کے لیے سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا

لاس اینجلس ۔3اکتوبر (اے پی پی):گوگل نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے استعمال ہونے والی اپنی ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (ٹی پی یوز) کی خلا میں کارکردگی جانچنے کے لیے ایک تجرباتی سیٹلائٹ مدار میں بھیج دیا ہے۔شنہوا کے مطابق گوگل نے بتایاکہ پروٹوٹائپ سیٹلائٹ جمعرات کو اسپیس ایکس کے ٹرانسپورٹر-18 رائیڈ شیئر مشن کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا، جس میں گوگل کی چار ٹی پی یوز نصب ہیں۔

کمپنی کی ٹیم نے سیٹلائٹ سے رابطے کی تصدیق کردی ہے اور یہ توقع کے مطابق کام کر رہا ہے۔گوگل نے بتایا کہ یہ اقدام ’’پروجیکٹ سن کیچر‘‘ کا پہلا مرحلہ ہے، جو پلینٹ لیبز پی بی سی کے اشتراک سے جاری ایک طویل المدتی تحقیقی منصوبہ ہے۔

منصوبے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا مستقبل میں مشین لرننگ کے لیے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ خلا میں قائم کیا جاسکتا ہے۔کمپنی آئندہ چند ہفتوں کے دوران مدار میں سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے ذریعے یہ جانچے گی کہ اس کی ٹی پی یوز خلا کے شدید جسمانی دباؤ، تابکاری اور درجہ حرارت کی انتہائی صورتحال میں کس طرح کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

اس ڈیٹا کی مدد سے مستقبل کے ڈیزائن کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔گوگل کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائٹس تقریباً مسلسل سورج کی روشنی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور زمین کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کمپنی نے کہا کہ مستقبل میں متعدد سیٹلائٹس پر مشتمل نظام کو باہم منسلک کیا جاسکتا ہے، جس سے خلا میں بڑے پیمانے پر اے آئی کے کام انجام دینا ممکن ہوسکے گا۔