یورپی رہنماؤں اور نیٹو سربراہ کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

یورپی رہنماؤں اور نیٹو سربراہ کا دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

برلن ۔25جون (اے پی پی):فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور برطانیہ کے رہنماؤں نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ اجلاس کے بعد دفاعی صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔شنہوا کے مطابق جرمن دارالحکومت برلن میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں رہنماؤں نے کہا کہ وہ "مضبوط نیٹو میں ایک مضبوط یورپ” کے وژن پر عمل پیرا رہیں گے اور دفاعی صنعت سے متعلق اپنے منصوبوں کو قریبی تعاون کے ذریعے آگے بڑھائیں گے۔ اجلاس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے امریکا سے آن لائن شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو کی دفاعی صلاحیتوں، جنگی تیاری اور استحکام کو بہتر بنانے کے لیے دفاعی صنعتی تعاون ناگزیر ہے، جو رکن ممالک کے دفاع اور مؤثر روک تھام کی حکمت عملی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔اجلاس میں فضائی دفاعی نظام، بغیر پائلٹ کے نظام (ڈرونز)، مصنوعی ذہانت (اے آئی )، طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتوں اور دیگر جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے یورپی ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی منصوبوں اور جدید ہتھیاروں کی خریداری کے عمل کو تیز کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے اور دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مالیاتی طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ دفاعی صنعت کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔یوکرین کے حوالے سے رہنماؤں نے اس کی دفاعی صلاحیتوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ روس پر پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے یوکرین کی مدد جاری رکھی جائے گی، جبکہ یوکرین کے توانائی کے شعبے کے استحکام کے لیے بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔

ایران کے معاملے پر رہنماؤں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مناسب حالات اور آئینی تقاضوں کے مطابق وہ برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم کثیر القومی فوجی آپریشن میں شمولیت اختیار کریں گے۔مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ کو سلامتی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔