یورپ میں موسمی شدت میں اضافہ، درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے کی وارننگ

یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں اور نئی رپورٹس کے مطابق یہ خطہ دنیا کے دیگر براعظموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔

جنیوا ۔30اپریل (اے پی پی):یورپ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں اور نئی رپورٹس کے مطابق یہ خطہ دنیا کے دیگر براعظموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ماحولیاتی نظام، معیشت اور انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔شنہو ا کے مطابق ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی سیکرٹری جنرل سیلسٹی ساؤلونے یورپی اسٹیٹ آف کلائمیٹ رپورٹ 2025 پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 1980 کے بعد سے یورپ عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا رفتار سے گرم ہوا ہے، جس سے یہ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔

رپورٹ، جسے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس اور ڈبلیو ایم او نے مشترکہ طور پر جاری کیا، کے مطابق 2025 میں یورپ کو شدید گرمی کی لہروں، جنگلاتی آگ، سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور برف کے تیزی سے پگھلنے جیسے ریکارڈ یا قریب ریکارڈ موسمی واقعات کا سامنا رہا۔

تقریباً 95 فیصد یورپ میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ بحیرہ روم سے لے کر آرکٹک سرکل تک شدید گرمی کی لہر پھیل گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں یورپ کو تاریخ کی بدترین جنگلاتی آگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 10 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ اسپین اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں آگ سے پیدا ہونے والے اخراج کا تقریباً نصف حصہ ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین کے مطابق خشک سالی، شدید گرمی اور جنگلاتی آگ جیسے عوامل نے حیاتیاتی تنوع پر بھی شدید دباؤ ڈالا ہے۔

سمندری درجہ حرارت میں اضافے سے بحیرہ روم میں آبی پودوں کو نقصان پہنچا جبکہ جنگلاتی آگ نے قدرتی مسکن کو متاثر کیا۔دوسری جانب فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن اور ڈبلیو ایم او کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق شدید گرمی عالمی زرعی نظام کو متاثر کر رہی ہے اور ایک ارب سے زائد افراد کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ گرمی کے باعث ہر سال تقریباً 500 ارب کام کے اوقات ضائع ہو رہے ہیں۔ماہرین نے اس صورتحال کے پیش نظر فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر حکمت عملی کو مزید تیز اور مؤثر بنانا ہوگا۔