‏پیپلز پارٹی دور میں پاکستان اسٹیل خسارے میں تھی ،مسلم لیگ ن کے دور میں اسٹیل ملز بند ہو گئیں، وفاقی وزیر حماد اظہر

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ‏‏پیپلز پارٹی دور میں پاکستان اسٹیل خسارے میں تھی،مسلم لیگ ن کے دور میں اسٹیل ملز بند ہو گئیں، گزشتہ 5 سال سے پاکستان اسٹیل مکمل بند ہے، پاکستان اسٹیل کے برطرف ملازمین کے بقایاجات ادا کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان …

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ‏‏پیپلز پارٹی دور میں پاکستان اسٹیل خسارے میں تھی،مسلم لیگ ن کے دور میں اسٹیل ملز بند ہو گئیں، گزشتہ 5 سال سے پاکستان اسٹیل مکمل بند ہے، پاکستان اسٹیل کے برطرف ملازمین کے بقایاجات ادا کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی صلاحیت کم کی گئی،‏ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ماہانہ 75 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں، مسئلہ پر وہ لوگ سیاست کر رہے ہیں جنہوں نے ادارے کو ڈبویا، ماضی میں بروقت فیصلے ہوتے تو صورتحال بہتر ہوتی ۔حماداظہر نے کہا کہ ‏سرکاری اداروں کے نقصانات ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہیں ،‏دو ہزار ارب سے زیادہ قومی اداروں کے نقصانات ہیں، ‏ہمیں پتا ہے اس معاملے پر سیاست ہو گی، وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ ‏جن ملازمین کو نکالا جا رہا ہے ان کو فی ملازم اوسط 23 لاکھ روپے دیں گے،‏اگر بروقت فیصلے ہوتے تو اتنے پیسے نہ لگتے، ‏اسٹیل ملز کی 19 ہزار ایکڑ زمین ہے، ‏اس وقت اسٹیل ملز کے 670 ملازمین موجود ہیں، حماد اظہر نے کہاکہ حکومت نے اسٹیل ملز سےمتعلق معاشی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‏اسٹیل ملز کی 13 سو ایکڑ زمین لیز پر دی جائے گیئ ،‏اسٹیل ملز کو 92ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکج دیا گیا،سرکاری اداروں میں ملازمین کی ماضی میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہیں، حماد اظہر نے کہا کہ ‏ساڑھے نو ہزار ملازمین ہیں، پہلے مرحلے میں چار ہزار ملازمین نکالے جائیں گے،‏سٹیل ملز کے پنشنرز کے واجبات کلیئر کر دیئے گئے ہیں۔برطرف ملازمین کو 10ارب سے زائد کے واجبات ادا کرینگے۔‏سٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ماہانہ 75کروڑ درکار ہوتے ہیں۔پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کریں گے۔