2 روزہ پی جی ایم آئی ‘ایم کون2025’ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

لاہور۔18دسمبر (اے پی پی):دو روزہ پی جی ایم آئی 'ایم کون 2025' اپنے تمام تر علمی و تحقیقی مقاصد حاصل کرنے کے بعد کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز طبی ماہرین، پروفیسرز، محققین اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز نے بھرپور شرکت کی۔کانفرنس کا بنیادی مقصد جدید سائنسی تحقیقات، طبی جدت اور ہیلتھ کیئر کے نئے عالمی رجحانات سے شرکا کو آگاہ کرنا تھا۔ پرنسپل امیر …

لاہور۔18دسمبر (اے پی پی):دو روزہ پی جی ایم آئی ‘ایم کون 2025’ اپنے تمام تر علمی و تحقیقی مقاصد حاصل کرنے کے بعد کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز طبی ماہرین، پروفیسرز، محققین اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز نے بھرپور شرکت کی۔کانفرنس کا بنیادی مقصد جدید سائنسی تحقیقات، طبی جدت اور ہیلتھ کیئر کے نئے عالمی رجحانات سے شرکا کو آگاہ کرنا تھا۔

پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج فاروق افضل کی سربراہی میں منعقدہ پی جی ایم آئی ایم کون2025 کے دوران منعقد کیے گئے مختلف سائنسی سیشنز، پینل ڈسکشنز اور خصوصی لیکچرز میں ماہرین نے جدید طبی علوم کے ساتھ ساتھ ہیلتھ پروفیشنلز کو پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقی اقدار اور مریضوں کی بہتر نگہداشت سے متعلق جامع رہنمائی فراہم کی۔

کانفرنس کے مندوبین اور شرکا نے ان سیشنز کو علم و تحقیق کے تبادلے اور باہمی سیکھنے کے عمل کے لیے انتہائی مفید قرار دیا۔پروفیسر فرخ زمان، پروفیسر محمد طیب، پروفیسر آغا شبیر علی، پروفیسر غیاث النبی طیب، پروفیسر طیبہ وسیم، پروفیسر روبینہ سہیل، پروفیسر ارشد تقی، پروفیسر اویس انور خصوصی طور پر شریک ہوئے اور نوجوان ڈاکٹرز کو اپنے علم و تجربہ سے میڈیکل کے شعبہ میں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے بارے آگاہی دی۔

میڈیا سے گفتگو میں پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ پی جی ایم آئی گزشتہ 51 برسوں سے طبی تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہا ہے اور دنیا بھر میں علم و آگاہی کی روشنی پھیلا رہا ہے۔انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں اور مختلف ممالک کی نامور میڈیکل یونیورسٹیز میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دے کر پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

پروفیسر فاروق افضل نے اس بات پر زور دیا کہ پی جی ایم آئی ایک ایسا ادارہ ہے جو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر معیاری طبی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی جی ایم آئی ایم کون 2025 کے مثبت اثرات طبی دنیا میں طویل عرصے تک یاد رکھے جائیں گے اور یہ کانفرنس مستقبل میں طبی تحقیق، علاج اور ہیلتھ کیئر سسٹم کی مزید بہتری میں معاون ثابت ہوگی۔

اختتام پر شرکا نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے علمی و تحقیقی پروگراموں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔