وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اب تک ہیپاٹائٹس سی پروگرام کے تحت صرف 21 ہزار شہریوں کی سکریننگ کی جا سکی ہے جبکہ حکومت ہر شہری کی سکریننگ پر تقریباً 7 ہزار روپے خرچ کر رہی ہے۔
2030 تک پاکستان کو ہیپاٹائٹس سی سے پاک ملک بنانا ہے، مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اب تک ہیپاٹائٹس سی پروگرام کے تحت صرف 21 ہزار شہریوں کی سکریننگ کی جا سکی ہے جبکہ حکومت ہر شہری کی سکریننگ پر تقریباً 7 ہزار روپے خرچ کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم آبادی کے حوالے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ سکریننگ کا عمل مزید تیز کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف 2030 تک پاکستان کو ہیپاٹائٹس سی سے پاک ملک بنانا ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ جس شہری میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوگی، اس کے علاج کے پہلے کورس پر 34 ہزار روپے لاگت آئے گی، جو حکومت برداشت کرے گی۔ ہر مریض کو علاج کے دو کورس مفت فراہم کیے جائیں گے، جن پر مجموعی طور پر 68 ہزار روپے خرچ ہوں گے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت پر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری سے معیشت کو آٹھ ڈالر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، اس لیے صحت کے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نظامِ صحت کو خود بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ ان مسائل کے حل کے لیے کوئی فرشتے نہیں آئیں گے۔وفاقی وزیرِ صحت نے مزید بتایا کہ حکومت ایک ایسا قانون متعارف کرانے جا رہی ہے جس کے تحت جن افراد کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ مکمل ہو چکی ہوگی، ان کے لیے ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی لازمی ہوگا۔ یہ قانون 12 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر لاگو ہوگا۔انہوں نے اینٹی بائیوٹکس کے غیر مؤثر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن مریضوں کو تین دن میں صحت یاب ہو جانا چاہیے، انہیں اب صحت یاب ہونے میں آٹھ دن لگ رہے ہیں، جو اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔








