قومی پیغامِ امن کمیٹی پاکستان کے زیرِ اہتمام مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما و مشائخ کے وفد نے چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں منگل کوپشاور کے کیتھڈرل چرچ کا دورہ کیا۔وفد میں ڈاکٹر ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا زاہد منصور، مفتی زبیر فہیم، مفتی عبدالرحیم، انجینئر مفتی عثمان، مفتی میر آصف قاری، مفتی عبدالکریم خان، مفتی یوسف کشمیری اور دیگر علما …
ملک میں امن، محبت، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی ، طاہراشرفی

مزید خبریں
پشاور۔ 28 جولائی (اے پی پی):قومی پیغامِ امن کمیٹی پاکستان کے زیرِ اہتمام مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما و مشائخ کے وفد نے چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں منگل کوپشاور کے کیتھڈرل چرچ کا دورہ کیا۔وفد میں ڈاکٹر ضیا اللہ شاہ بخاری، مولانا زاہد منصور، مفتی زبیر فہیم، مفتی عبدالرحیم، انجینئر مفتی عثمان، مفتی میر آصف قاری، مفتی عبدالکریم خان، مفتی یوسف کشمیری اور دیگر علما و مشائخ شامل تھے۔کیتھڈرل چرچ پہنچنے پر چرچ کے پادری ہمفری سرفراز پیٹر نے وفد کا استقبال کیا اور انہیں چرچ کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا۔
اس موقع پر علما و مشائخ نے بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری، باہمی احترام اور قیامِ امن کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔قبل ازیں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان احترام، برداشت اور رواداری کے فروغ، شدت پسندانہ نظریات کے تدارک اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی خصوصی مواقع، بالخصوص محرم الحرام، کے دوران امن و امان، مذہبی ہم آہنگی اور ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام جبر کا قائل نہیں اور مذہب کے نام پر انتہا پسندی یا آئین سے بالاتر کسی بھی طرزِ عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور پاکستان کے شہدا و غازی قوم کا فخر ہیں، جن کے ساتھ تمام مکاتبِ فکر کی مذہبی قیادت شانہ بشانہ کھڑی ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کیتھڈرل چرچ کے دورے کا مقصد مسیحی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، بین المذاہب ہم آہنگی، محبت، امن اور احترامِ انسانیت کے پیغام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے، جہاں آئین ہر شہری کو مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے دور میں بھی علما نے چرچ کا دورہ کرکے مسیحی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا تھا، جبکہ آج مختلف مکاتبِ فکر کے علما کی مشترکہ موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ سب پاکستانی قومی پرچم تلے متحد ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ہدایت پر قائم کی گئی، جس کا مقصد ملک میں امن، محبت، قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک کو چیلنجز کا سامنا ہوا، تمام مکاتبِ فکر کے علما نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متحد ہو کر کردار ادا کیاکمیٹی کے اراکین نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو آئین کے مطابق مذہبی آزادی اور مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نفرت، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے، مذہبی رواداری، قومی اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے تمام مذہبی قیادت مشترکہ جدوجہد جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔وفد کے اراکین نے مزید کہا کہ آج تمام مکاتبِ فکر کے علما ریاست کے تحفظ، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے متحد ہیں
۔ انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” اور “بنیان مرصوص” قومی اتحاد اور دفاعِ وطن کی علامت ہیں اور پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر کے گرجا گھروں میں بھی ملک کی سلامتی، امن اور افواجِ پاکستان کے لیے دعائیں کی گئی ہیں، جو قومی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔وفد نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص کسی غیر مسلم یا اقلیتی شہری پر ظلم کرے گا، قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اس مظلوم کی حمایت میں کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کے مطابق اقلیتوں کو مذہبی آزادی، تعلیم اور دیگر تمام شعبوں میں مساوی حقوق حاصل ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو شخص اقلیتوں کے آئینی حقوق کی مخالفت کرتا ہے، وہ قومی وحدت کو نقصان پہنچاتا ہے۔وفد کے اراکین نے کہا کہ حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے علما پیغامِ امن، بین المذاہب ہم آہنگی، انتہا پسندی کے خاتمے اور پاکستان کے دفاع و استحکام کے لیے متحد ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن، محبت، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی کیونکہ پاکستان کے تمام شہری ایک قومی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور ملک کی سلامتی و ترقی کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگااس موقع پر چرچ انتظامیہ اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے وفد کے دورے کو بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اعتماد، محبت اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔








