کاشتکار پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،صدر کسان خالد کھوکھر

کاشتکار پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،صدر کسان خالد کھوکھر

ملتان۔ 30 اگست (اے پی پی):پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ کاشتکار پاکستان کی معیشت اور غذائی تحفظ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے زرعی پالیسیوں اور بجٹ سازی کے عمل میں کسان کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔ ملتان پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ پنجاب کا کسان گندم، چاول، کپاس، آم اور دیگر فصلیں کاشت کرکے ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔ ملک کو جب بھی مشکل وقت کا سامنا ہوا، کسان نے اپنا کردار ادا کیا۔ ہماری زمین اور ہماری معیشت پاکستان سے جڑی ہوئی ہے، ہم اپنی زمین کا ٹکڑا اٹھا کر کسی دوسرے ملک نہیں جا سکتے، ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عام آدمی، مزدور اور کسان کی خوشحالی کو ملکی ترقی کا بنیادی پیمانہ بنایا جائے۔ اگر ملک میں پیداوار کرنے والا کسان ہی معاشی مشکلات کا شکار ہو تو زرعی شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینا مشکل ہوگا۔خالد کھوکھر نے کہا کہ فصلوں کی قیمتوں کے تعین میں سب سے اہم چیز کاشتکار کی پیداواری لاگت ہے۔ کسان سے کوئی یہ پوچھنے کو تیار نہیں کہ ایک فصل تیار کرنے پر اس کی کتنی لاگت آتی ہے، اسے کتنا منافع ملنا چاہیے اور عالمی منڈی میں اسی پیداوار کی کیا قیمت ہے۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کی جائے اور فصلوں کے نرخ مقرر کرنے سے قبل پیداواری لاگت، کسان کی محنت اور مناسب منافع کا مکمل جائزہ لیا جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر کسان کو پالیسی سازی میں شامل کرے تو زرعی شعبے کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔پاکستان کسان اتحاد کے صدر نے کہا کہ حکومتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد بھی انتہائی ضروری ہے۔ اداروں کو اس انداز میں کام کرنا چاہیے کہ حکومتی فیصلوں کے ثمرات بروقت عوام تک پہنچیں۔خالد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، ہمارے پاس زرخیز زمین، محنتی کسان اور وسیع سمندری حدود سمیت بے شمار وسائل موجود ہیں۔

اس کے باوجود اگر عام آدمی، مزدور اور کسان خوشحال نہیں تو ہمیں اپنے معاشی نظام اور پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کسانوں کو معیاری بیج، کھاد، پانی، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور منڈی تک بہتر رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فصلوں کے مناسب اور منصفانہ نرخ یقینی بنائے جائیں تاکہ کسان آئندہ فصل کے لیے اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکے۔خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ کاشتکار پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کسان کو کمزور کرکے ملکی معیشت مضبوط نہیں کی جا سکتی۔

حکومت اور کسان نمائندے مل بیٹھ کر فیصلے کریں تو زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ میں بہتری اور ملکی معیشت کے استحکام کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کسانوں کی تجاویز کو اہمیت دیتے ہوئے زرعی پالیسیوں میں ان کی مؤثر شرکت یقینی بنائے گی اور ایسا نظام تشکیل دیا جائے گا جس میں کسان، مزدور اور عام شہری سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو معاشی ترقی کے ثمرات میں مناسب حصہ مل سکے۔

خالد کھوکھر نے کہا کہ انتظامی امور بہتر بنانے، عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنے اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے ملک میں نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی مسائل کا بروقت حل ممکن ہو سکے۔