اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے معاشی تعاون کو ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری کے نئے دور میں داخل کرنے کی ضرورت ہے جس میں مشترکہ منصوبہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی استعداد کار میں اضافہ، تحقیق و ترقی اور ہنرمند روزگار کو بنیادی اہمیت حاصل ہو اور یہ کہ پاکستان کو …
9 رکنی چینی وفد کا اسلام آباد چیمبر کا دودہ ، سمارٹ سٹیز، ڈرونز، روبوٹکس، ڈیٹا سینٹرز اور آر اینڈ ڈی میں تعاون پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے معاشی تعاون کو ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری کے نئے دور میں داخل کرنے کی ضرورت ہے جس میں مشترکہ منصوبہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی استعداد کار میں اضافہ، تحقیق و ترقی اور ہنرمند روزگار کو بنیادی اہمیت حاصل ہو اور یہ کہ پاکستان کو محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ملک کے بجائے جدت اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں فعال شراکت دار بننا ہوگا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار آئی سی سی آئی میں 9 رکنی چینی وفد کے دورے کےموقع پر کیا جس کی قیادت ایچ کے ایچ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر کیپٹن عبد الخالق ربانی کھر اور شنگھائی پومِن ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر لو گوپنگ کر رہے تھے۔ اجلاس میں سیف سٹی اور سمارٹ سٹی سلوشنز، جدید سکیورٹی سسٹمز، ڈرونز، روبوٹکس، یو اے وی ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز، تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور تحقیق و ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاک چین ٹیکنالوجی تعاون کا مقصد محض ٹیکنالوجی درآمد کرنا نہیں بلکہ اسے مقامی سطح پر ترقی دینا، مشترکہ منصوبے قائم کرنا، مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا، تکنیکی تربیت فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے پاکستانی استعداد کار میں اضافہ ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے تعاون سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کو فروغ اور پاکستان کی ٹیکنالوجی کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ آئی سی سی آئی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، پاکستانی کاروباری اداروں اور متعلقہ اداروں کے درمیان روابط اور قابل عمل کاروباری شراکت داری کے فروغ کے لئے اپنا بھرپور پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔کیپٹن عبد الخالق ربانی کھر نے کہا کہ وفد کے دورے کے دوران جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی، ڈرونز، روبوٹکس، یو اے وی سسٹمز، تعلیم، تحقیق اور ہنرمندی کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے روشن امکانات سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چینی شراکت دار پاکستان میں تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کے لئے معاونت، سینٹرز آف ایکسی لینس کے قیام، طلبہ کے تبادلے اور خصوصی تربیتی پروگراموں میں تعاون کے خواہاں ہیں۔لو گوپنگ، جنرل منیجر شنگھائی پومِن ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے اپنی کمپنی کی ٹیکنالوجیکل صلاحیتوں، مختلف شعبوں میں کامیابیوں اور تجربات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے پاکستانی اداروں اور کاروباری برادری کے ساتھ جدید سکیورٹی سلوشنز، ڈرون اور روبوٹک سسٹمز، سمارٹ سٹی ٹیکنالوجیز، ڈیٹا سینٹرز، تحقیق و ترقی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا اور پاکستان میں باہمی مفاد پر مبنی طویل المدتی شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے استقبالیہ کلمات ادا کئے اور اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے چینی وفد اور پاکستانی کاروباری برادری کے درمیان براہ راست اور بامقصد تبادلہ خیال کو یقینی بنایا۔ آئی سی سی آئی کے نائب صدر نے خطبہ تشکر پیش کرتے ہوئے چینی وفد کی چیمبر آمد اور ٹیکنالوجیکل مہارت و سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران عمران منہاس، ذوالقرنین عباسی، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری اور کاروباری برادری کے دیگر نمایاں ارکان بھی موجود تھے۔








