سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینالازمی ہو ں گے، الیکشن کمیشن

اسلام آباد ۔ 6 جون (اے پی پی) انتخابی قانون 2017ءکے تحت عام انتخابات 2018ءمیں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینالازمی ہو ں گے۔ قومی اسمبلی میں 272 نشستوں پر کم از کم 13 ٹکٹ خواتین کو دینے ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق انتخابی قانون 2017ءمیں براہ راست نشستوں پر 5فیصد …

اسلام آباد ۔ 6 جون (اے پی پی) انتخابی قانون 2017ءکے تحت عام انتخابات 2018ءمیں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینالازمی ہو ں گے۔ قومی اسمبلی میں 272 نشستوں پر کم از کم 13 ٹکٹ خواتین کو دینے ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق انتخابی قانون 2017ءمیں براہ راست نشستوں پر 5فیصد ٹکٹ خواتین کو دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس سندھ سے براہ راست انتخاب میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن میں فریال تالپور، عذرا فضل، شازیہ مری، نفیسہ شاہ اور فہمیدہ مرزاگزشتہ انتخابات 2013ءمیں براہ راست نشستوں پر منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں آئی تھیں جبکہ فہمیدہ مرزا کی پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد بقیہ خواتین عام انتخابات 2018ءمیں بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر براہ راست حصہ لیںگی۔